Wednesday , December 12 2018

حلقہ خیریت آباد سے محمد مرتضیٰ علی خاں جناتنترا کے امیدوار

عنبرپیٹ سے امتیاز غوری کا مقابلہ، جوبلی ہلز سے پرچہ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف ماہی برہم

عنبرپیٹ سے امتیاز غوری کا مقابلہ، جوبلی ہلز سے پرچہ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف ماہی برہم

حیدرآباد ۔ 12 اپریل (سیاست نیوز) جناتنترا جنا پالنا نے حیدرآباد کے ایک معزز و علمی گھرانے کے چشم و چراغ محمد مرتضیٰ علی خاں کو حلقہ اسمبلی خیریت آباد سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ نواب محمد اقبال علی خاں کے فرزند محمد مرتضیٰ علی خاں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی کردیا ہے۔ ایک ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ حلقہ خیریت آباد میں عوامی مسائل کے انبار ہیں۔ 80 بستیاں ایسی ہیں جو بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ مسٹر ڈی ناگیندر ریاستی کابینہ میں رہنے کے باوجود اس حلقہ کو ترقی دلانے میں ناکام رہے لیکن انہوں نے عوام کی خدمت کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ 28 سالہ مرتضیٰ علی خاں جو ایم بی اے ہیں دبئی اور قطر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے بتایا کہ وہ حلقہ کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنا، نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنا اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ان کے اہم ترین مقاصد میں شامل ہیں۔ اس موقع پر جوبلی ہلز سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے والی 26 سالہ منشالال جنہوں نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام ماہی رکھ لیا ہے بتایا کہ جوبلی ہلز کے رٹرننگ آفیسر نے بناء کسی وجہ کے ان کا پرچہ نامزدگی مسترد کردیا ہے جس کے خلاف وہ عدالت سے رجوع ہورہی ہیں۔ ماہی نے جو ایم بی اے ہیں بتایا کہ حلقہ جوبلی ہلز میں وہ واحد خاتون امیدوار تھیں لیکن ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کیا گیا ۔ دوسری جانب جنا تنتر جنا پالنا کے امیدوار حلقہ اسمبلی عنبرپیٹ سے امتیاز غوری نے بتایا کہ وہ فرقہ پرستوں، رشوت خوروں اور غریبوں کا استحصال کرنے والوں کو ناکام بنانے کیلئے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور انہیں حلقہ کے نوجوانوں کی تائید حاصل ہورہی ہے۔ ان لوگوں نے مزید بتایا کہ جناتنترا جنا پالنا پارٹی کے سربراہ پی سری کانت ریڈی ہیں اور اس جماعت نے جملہ 28 امیدوار ٹھہرائے ہیں۔ محمد مرتضیٰ علی خاں کا انتخابی نشان الماری ہے۔

TOPPOPULARRECENT