Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / حماس پر اسرائیلی فوج کا ’’حسب معمول‘‘ تشدد بھڑکانے کا الزام، شہیدوں کی تدفین

حماس پر اسرائیلی فوج کا ’’حسب معمول‘‘ تشدد بھڑکانے کا الزام، شہیدوں کی تدفین

شہیدوں میں آٹھ بچے بھی شامل
صدر فلسطین محمود عباس کا عام ہڑتال کا اعلان
مصر کا غزہ کیساتھ اپنی سرحد مزید دو روز کھلے رکھنے کا اعلان
غزہ سٹی ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) غزہ سرحد پر یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کھولے جانے کے خلاف گذشتہ کئی سالوں میں پہلی بار ہوئی بدترین خونریز جھڑپ اور تشدد میں 59 فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں جبکہ آج مزید احتجاجی مظاہرے کئے جانے کے بھی امکانات ہیں۔ فلسطینیوں نے آج کا دن بطور ’’نقبہ‘‘ منایا جو 1948ء کے اس دن کی یادگار ہے جب تقریباً سات لاکھ فلسطینیوں کو خود ان کی سرزمین سے بیدخل کرتے ہوئے اسرائیل نام کے ایک نئے ملک کو عالمی نقشہ پر لایا گیا تھا۔ یاد رہیکہ احتجاج سے صرف ایک روز قبل ہی امریکہ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے متنازعہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس نے فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا۔ دوسری طرف غزہ کی وزارت صحت نے جو بیان دیا ہے اس کے مطابق جن 59 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا ہے ان میں سے اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہے جو اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں شہید ہوئے۔ ان مہلوکین میں ایک ایسی چھوٹی بچی بھی شامل ہے جس کی آنسو گیس کی زائد مقدار پھیپھڑوں میں چلے جانے سے موت واقع ہوگئی۔ ان میں آٹھ دیگر کمسن نوجوان بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 16 سال سے کم ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہیکہ جیسے یہ کوئی عالمی جنگ کے اعدادوشمار ہوں۔ زخمیوں کی تعداد زائد از 2400 بتائی گئی ہے۔ 2014ء کی غزہ جنگ کے بعد یہ اب تک کا بدترین تشدد ہے۔ دریں اثناء حماس کے سینئر عہدیدار خلیل الحیاء نے منگل کے روز بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ دوسری طرف مغربی کنارہ پر صدر فلسطین محمود عباس نے منگل کے روز عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے ’’قتل عام‘‘ کا الزام عائد کیا۔ فلسطینیوں کی شہادت پر دائیں بازو کے گروپس اور مختلف ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سفارتکاروں نے یہ بھی بتایا کہ اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس بیان کو روک دیا جس کے ذریعہ غزہ میں برپا کئے گئے تشدد کی آزادانہ تحقیقات کئے جانے کی بات کہی جانے والی تھی۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور غیرانسانی حرکت یہ تھی کہ اتنے بڑے پیمانے پر تشدد برپا ہونے اور فلسطینیوں کے شہید ہونے کے باوجود امریکی سفارتخانہ کے افتتاح کا پروگرام حسب معمول جاری رہا جس میں واشنگٹن سے آئے ایک وفد جس میں ٹرمپ کی دختر ایوانکا ٹرمپ اور ان کے شوہر جارڈ کوشنر نے شرکت کی۔ ٹرمپ نے اس تقریب سے ایک ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ آج بھی امن کا خواہاں ہے۔ اسرائیلی افواج کا کہنا ہیکہ 40,000 فلسطینیوں نے اس احتجاج میں شرکت کی۔ اسرائیلی فوج نے ’’حسبِ معمول‘‘ تشدد کو بھڑکانے میں فلسطینیوں کو موردالزام ٹھہرایا اور کہاکہ فلسطینی اسلامی موومنٹ نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب فائرنگ کرکے تشدد کو ہوا دی۔ وائیٹ ہاؤس نے بھی تشدد بھڑکانے کیلئے حماس کو موردالزام ٹھہرایا۔ فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مسلح افواج کے تشدد کی مذمت کی جبکہ دیگر ممالک نے اس معاملہ میں تحمل برتنے کی خواہش کی۔ اسرائیل نے جس طرح نہتے فلسطینیوں پر فائرنگ کی ہے اس نے ایک بار پھر دنیا کے دیگر ’’انصاف پسند‘‘ ممالک کو اسرائیل کی مذمت کرنے پر مجبور کردیا۔ مصر نے غزہ کے ساتھ اپنی سرحد کو مزید دو روز کھلے رکھنے کا اعلان کیا جبکہ عام دنوں میں یہ صرف چار دنوں تک کھلی رہتی ہے تاہم رفاہ کراسنگ تقریباً سال بھر بند ہی رہی۔ فلسطینیوں نے اپنے احباب، دوست اور رشتہ داروں کی نعشوں کی تدفین شروع کردی جہاں دلخراش مناظر دیکھے گئے حالانکہ فلسطینی ماؤں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ہمیشہ یہ کہہ کر نصیحت کی ہے کہ کبھی بھی ایمان سے بڑھ کر اپنی جان نہیں ہوسکتی۔ ایمان ہے تو سب کچھ ہے۔ اب جبکہ مسلمانوں کے ماہ مقدس رمضان المبارک کے آغاز کو صرف ایک روز باقی ہے، ان حالات میں فلسطینیوں کی شہادت اور ان کے غم سے نڈھال خاندانوں کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی صبر جمیل عطا کرسکتا ہے۔ تاہم یہ ایک اچھی علامت ہے کہ اکثریت امریکی سفارتخانہ کی افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کرنے والوں کی رہی۔

TOPPOPULARRECENT