Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / حمص کے قلب میں شامی باغیوں کی قطعی پسپائی ‘1000باغی جنگجو روانہ

حمص کے قلب میں شامی باغیوں کی قطعی پسپائی ‘1000باغی جنگجو روانہ

حمص۔9مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) حمص کے شہر سے جو باغیوں کا میدان جنگ بنا ہوا تھا باغی جنگجوؤں کا آخری گروپ بھی تخلیہ کررہا ہے ۔ اس سے صدر شام بشارالاسد کی علامتی کامیابی ظاہر ہوتی ہے ۔ جب کہ شام میں صدارتی انتخابات مقرر ہیں جو انعقاد سے پہلے ہی متنازعہ بن گئے ہیں ۔ باغیوں نے حلب کے تاریخی قلب میں دوبارہ حملہ کیا تھا اور ایک لکژری ہوٹل کو دھم

حمص۔9مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) حمص کے شہر سے جو باغیوں کا میدان جنگ بنا ہوا تھا باغی جنگجوؤں کا آخری گروپ بھی تخلیہ کررہا ہے ۔ اس سے صدر شام بشارالاسد کی علامتی کامیابی ظاہر ہوتی ہے ۔ جب کہ شام میں صدارتی انتخابات مقرر ہیں جو انعقاد سے پہلے ہی متنازعہ بن گئے ہیں ۔ باغیوں نے حلب کے تاریخی قلب میں دوبارہ حملہ کیا تھا اور ایک لکژری ہوٹل کو دھماکہ سے اڑا دیا تھا جسے فوج کے مورچہ میں تبدیل کردیا گیا تھا جب کہ اس کے نیچے سے سرنگ کھودی گئی تھی جو شام کے شمالی شہر کو تقسیم کرتی تھی ۔ کم از کم 1400فوجی اور حکومت حامی نیم فوجی جنگجو ایک دھماکہ میں ہلاک ہوگئے ۔ شامی رسدگاہ برائے انسانی حقوق کے بیان کے بموجب تقریباً ایک ہزار باغی جنگجو قدیم شہر حمص سے روانہ ہوچکے ہیں ۔ یہ عدیم المثال تخلیہ ہے جس کا چہارشنبہ سے آغاز ہوا ۔ اے ایف پی کی خبر کے بموجب صوبائی گورنر طلعت برازی نے روانہ ہونے والے باغیو جنگجوؤں کی تعداد کا انکشاف کیا ۔ آخری 300جنگجوؤں کو منتقل کرنے والی 7بسوں کودیا گیا کیونکہ اسلامی جنگجوؤں نے انہیں غذائی رسد سربراہ کرنے سے انکار کردیا تھا ۔

دو شیعہ شہر صوبہ حلب میں باغیوں کے زیرقبضہ تھے جن کا سرکاری فوج نے محاصرہ کررکھا تھا ۔ برازی نے کہا کہ انہیں پرانے شہر سے باہر جانے کے شمالی دروازے پر روک دیا گیا ۔ شامی رسدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے کہا کہ اسلام پسندوں نے زہرہ اور نبول نے دو لاریوں کے ذریعہ رسد کی منتقلی سے اتفاق کیا تھا جب کہ حکومت 12لاری رسد سے اتفاق کرچکی تھی ۔جب کہ باغیوں کے ساتھ حکومت کا معاہدہ طئے ہوا تھا ۔ برازی قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ کل 200جنگجو تخلیہ کرچکے ہیں ۔ یہ 980افراد کے علاوہ ہے جن میں سے بیشتر باغی تھے لیکن اس گروپ میں چند خواتین اور بچے بھی شامل تھے جنہیں پرانے شہر سے بسوں کے ذریعہ روانہ کیا گیا تھا ۔

یہ تخلیہ فوج کے تقریباً دو سالہ محاصرہ کے بعد کیا گیا جس کی وجہ سے باغی شہر کے مضافات میں صرف ایک ضلع تک محدود ہوکر رہ گئے تھے جو کبھی بغاوت کا مرکز بنا ہوا تھا ۔ برازی نے کہا کہ باغیوں کے پڑوسی ملک میں آئندہ ہفتوں میں تخلیہ کیلئے بات چیت آخری مراحل میں ہے ۔ جنگجوؤں کے ساتھ چند شہریوں نے بھی بسوں کے ذریعہ تخلیہ کیا ۔ شہردرالکبیرا اب بھی اپوزیشن کے زیرقبضہ ہے جو حمص سے 20کلومیٹر دور واقع ہے ۔ ایک فوجی ایک مکان کی چھت پر چڑگیا تھا اور اس نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب کہ وہ نشانہ بازوں سے بے خوف ہوکر چھت پر چڑھا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT