Wednesday , February 21 2018
Home / جرائم و حادثات / حملہ میں زخمی شخص کو انصاف دلانے میں پولیس ناکام

حملہ میں زخمی شخص کو انصاف دلانے میں پولیس ناکام

شکایت واپس لینے کیلئے دباؤ ، پولیس پر حملہ آوروں کی پشت پناہی کا الزام
حیدرآباد /21 نومبر ( سیاست نیوز ) پولیس میں شکایت کرنے اور مقدمہ درج ہونے کے باوجود خاطی آزاد گھوم رہے ہیں اور مقدمہ واپس لینے کیلئے میرے چھوٹے بیٹے کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔ ایک بیٹے کی فکر میں باپ نے پولیس کی عدم کارروائی پر یہ الفاظ کئے ۔ جو کمیونٹی پولیسنگ پر سوالیہ نشان ثابت ہو رہا ہے ۔ اپنے افراد خاندان بالخصوص دونوں بیٹوں کی سلامتی کا کمشنر رچہ کنڈہ سے مطالبہ کیا ۔ یہ بات زخمی غلام معین الدین کے والد غلام احمد معین الدین نے بتائی ۔ جنہوں نے گذشتہ ہفتہ ونستھلی پورم پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک سب انسپکٹر پر جو کیس کی تحقیقات انجام دے رہا ہے ۔ خاطیوں سے ساز باز کے سنگین الزامات پائے جاتے ہیں ۔ متاثرہ شخص کے والد ناانصافی کا ذکر کرنے سے خوف زدہ ہیں بلکہ صرف انصاف کی بات کر رہے ہیں ۔ جبکہ یہ مسئلہ ہوم منسٹر سے رجوع ہونے کے باوجود ڈی سی پی ایل بی نگر بھی اس معاملہ میں خاطر خواہ کارروائی کرنے سے قاصر رہے یاد رہے کہ کل 20 نومبر کے دن اقدام قتل کی سازش کا پردہ فاش کرتے ہوئے ونستھلی پورم پولیس نے تین افراد کو گرفتار کرلیا تھا اور 5 افراد کو مفرور ثابت کیا ۔ جنہوں نے غلام معین الدین کو شدید زدوکوب کرتے ہوئے اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور معین الدین کے اہم دستاویزات پاسپورٹ دوبئی امیگریشن کارڈ ، لیبر کارڈ ، امارات کا آئی ڈی ، اے ٹی ایم کارڈز و دیگر کارڈوں کو چھین لیا تھا ۔ معین الدین پر الزام ہے کہ اس نے سرمایہ داری کی رقم واپس نہیں کی اس الزام کو غلام معین الدین اور ان کے والد غلام احمد معین الدین ساکنان سعیدآباد کرماگوڑہ نے بے بنیاد قرار دیا اور فوری اعلی سطح تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 7 نومبر کے دن پہلے حملہ کیا گیا ۔ اس دن شکایت گذار نے ڈائل 100 پر شکایت کی تاہم کوئی اقدام نہیں ہوا ۔ دوبارہ اس شخص پر 10 نومبر کے دن حملہ ہوا پھر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ جس کے بعد اس نے ہمت کرتے ہوئے ہوئے 13 نومبر کے دن پولیس اسٹیشن پہونچکر شکایت کی ونستھلی پورم پولیس نے دفعات تو سنگین عائد کئے مگر اقدام میں سنجیدگی نہیں ہے ۔ اس کیس کی تحقیقات کر رہے سب انسپکٹر آف پولیس ناگرجنا پر الزام ہے کہ وہ خاطیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے مبینہ طور پر ان کی مدد کر رہے ہیں ۔ ڈسپلین شکنی پر سخت کارروائی کیلئے مشہور رچہ کنڈہ پولیس کمشنر مسٹر مہیش مرلی دھر بھگوت سے غلام احمد معین الدین نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے بیٹے سے انصاف کریں اور اس کے قیمتی سامان اور دستاویزات کو ان کے حوالے کروائیں ۔

TOPPOPULARRECENT