حنا نے بیٹے کے علاج کیلئے ڈھائی ماہ کا بچہ فروخت کردیا!

دھنباد۔21 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جھارکھنڈ کے دھنباد ضلع میں ایک ماں نے اپنے بیمار بیٹے کا علاج کرانے کے لئے اپنے دوسرے ڈھائی مہینے کے بیٹے کو بیچ دیا۔ معاملہ دھنباد کے بینک موڑ تھانہ کے تحت واسع پور کا ہے۔ واسع پور معروف گنج کی رہنے والی حنا پروین کو اپنے 6 سالہ بیٹے کے علاج کے لئے 15 ہزار روپے کی ضرورت تھی۔ حنا پروین اور اس کا شوہر اس رقم کا بندوبست نہیں کر پائے۔ اس کے بعد جاوید نامی ایک شخص نے انہیں اپنے ڈھائی ماہ کے بیٹے کو فروخت کرنے کی پیشکش کی۔پہلے تو حنا پروین نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا، لیکن آخر میں حنا نے جاوید کی پیشکش کو قبول کر لیا اور بہار کے گیا ضلع کے ایک لا ولد جوڑے کو 20 ہزار روپئے میں اپنے بیٹے کو بیچ دیا۔گود لینے والے جوڑے نے اسٹامپ پیپر پر دستخط کر کے بچے کو لے لیا اور اسے لے کر گیا ضلع واپس چلے گئے، لیکن اب حنا کی ممتا پھر جاگ اٹھی ہے اور اب وہ اپنے بیٹے کو پانے کی فریاد لگا رہی ہے۔حنا پروین نے بتایا کہ اس نے ایک جگہ سے قرض لیا ہے جس کے عوض میں وہ پیسے ادا کر کے اپنے بیٹے کو واپس حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اگر اسے 20 ہزار روپئے کی جگہ 25 ہزار روپے بھی دینا پڑے تو وہ اسے دینے کے لئے تیار ہے۔حنا نے کہا کہ اب وہ کسی بھی صورت میں اپنے بیٹے کو واپس لینا چاہتی ہے۔ اس معاملے مذکورہ خاتون دھنباد عدالت میں پہنچی اور وکیل سے صلاح ومشورے کئے۔ ہندوستان میں مسلم خاندان کو بچہ گود لینے کی اجازت قانون نہیں دیتا ہے اور نہ ہی مسلم پرسنل لا بورڈ اس کی اجازت دیتا ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر چائلڈ لائن اس معاملے کو سنجیدگی سے لے تو خاتون کو اپنا بیٹا واپس مل سکتا ہے۔ حنا نے اعتراف کیا کہ اس سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اب مجھے میرا بیٹا واپس چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT