Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / حوالہ اور ہونڈی کاروباریوں کی چاندی

حوالہ اور ہونڈی کاروباریوں کی چاندی

حیدرآباد ۔ 19 نومبر (سیاست نیوز) بڑی کرنسی کے چلن کو بند کردینے سے ملک کے عوام پریشان ہیں۔ تاہم بڑے تاجرین 30 فیصد کمیشن سے اپنے کالادھن کو باقاعدہ بنانے میں مصروف ہے۔ حوالہ کاروبار کرنے والے افراد موقع کی نزاکت کا بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔ منسوخ شدہ نوٹوں کو مختلف طریقہ کار سے باقاعدہ بنانے کی سرگرمیاں چلارہے ہیں۔ غیرمحسوب دولت رکھنے والے افراد اپنی دولت کو ڈالر اور پونڈ میں تبدیل کررہے ہیں یا تین ماہ بعد نئی نوٹ لینے کا معاہدہ کررہے ہیں۔ ہونڈی کا کاروبار کرنے والے افراد سارے ملک میں اپنے ایجنٹس کو پھیلا چکے ہیں اور سارا کام خفیہ و رازداری میں کیا جارہا ہے۔ حکومت اور پولیس کی نظر سے بچنے کیلئے مختلف راہیں ہموار کی جارہی ہیں تاکہ کسی پر کسی کو شک نہ ہو۔ کالادھن رکھنے والا بھی محفوظ رہے اور کالادھن کو وائیٹ کرنے والا بھی محفوظ رہے۔ حوالہ کاروبار کرنے والے افراد کالادھن کو نہ ہی سرکاری ریکارڈ میں پیش کررہے ہیں اور نہ ہی بینک کھاتوں میں جمع کرے بغیر اس کو باقاعدہ بنارہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ سالانہ حوالہ ریاکٹ کے ذریعہ 1000 کروڑ روپیوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ خلیجی ممالک کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے افراد اپنے ارکان خاندان تک رقم پہنچانے کیلئے حوالہ کاروبار کرنے والے افراد کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان میں بھاری رقم شہر حیدرآباد کو پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی سے ملک میں معاشی ایمرجنسی کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کیلئے حوالہ ریاکٹ بہت زیادہ سرگرم ہوگیا ہے۔ پڑوسی ملک نیپال میں ہندوستان کی منسوخ شدہ 30 ہزار کروڑ روپئے کرنسی موجود ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد حوالہ ریاکٹ کی نظر ہندوستان کے ساتھ نیپال پر بھی مرکوز ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT