Tuesday , November 21 2017
Home / سیاسیات / حوالہ باز کانگریس کا میری کارکردگی پر سوال ‘ مودی کا طنز

حوالہ باز کانگریس کا میری کارکردگی پر سوال ‘ مودی کا طنز

سونیا گاندھی کے ہوا بازی ریمارک کا جواب۔ وزیر اعظم کا بھوپال میں کارکنوں سے خطاب

بھوپال 10 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی جانب سے بی جے پی کے انتخابی وعدوں کو صرف ہوابازی قرار دئے جانے کے دو دن بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے آج جوابی وار کرتے ہوئے کانگریس کو حوالہ باز ( کرپٹ ) قراردیا ہے ۔ بھوپال ائرپورٹ پر بی جے پی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ جو لوگ حوالہ بازی ( کرپشن ) میں ملوث ہیں وہ ان کی کارکردگی پر سوال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر پارلیمانی تعطل پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس نے حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ جی ایس ٹی بل کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ مانسون سشن ختم کردے ۔ انہوں نے تاہم ادعا کیا کہ ان کی حکومت پارلیمانی تعطل اور بحران کو ختم کرنے کی راہ تلاش کرلیگی ۔ مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں کل ہی پارلیمنٹ کے مانسون سشن کو غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے کا اعلامیہ جاری کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کرینگے تاکہ پارلیمنٹ سشن میں کام ہوسکے اور زیر التوا کاموںکو پورا کرنے کیلئے مل کر کام کرینگے ۔ انہوں نے کانگریس قیادت کا نام لئے بغیر کہا کہ سبھی جماعتیں اس تعلق سے متفق ہیں سوائے ایک کے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا انا پرستی کا جمہوریت سے ٹکراؤ ہوگا ۔

مانسون سشن کو 13 اگسٹ کو ملتوی کردیا گیا تھا جبکہ مودی حکومت جی ایس ٹی بل کو منظوری دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی ۔ وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مدھیہ پردیش کے دارالحکومت کو اپنے اولین دورہ میں مودی نے کہا کہ جمہوریت میں جیت اور ہار ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایک موقع پر بی جے پی کے پارلیمنٹ میں صرف دو ارکان تھے اور سابق وزیراعظم راجیو گاندھی اکثر ہماری پارٹی کو دو تین ارکان کی پارٹی قرار دیتے تھے ۔ اب یہ صورتحال ہے کہ جس پارٹی کے پاس 400 ایم پیز ہوا کرتے تھے اس کے بعد صرف 40 ایم پیز ہیں۔ لیکن جمہوریت میں شکست ہو یا کامیابی ہو سیاسی جماعتیں عوام کی بہتری اور ملک کی توقعات کی تکمیل کیلئے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اس اصول کو سمجھتی ہیں اور عوام کے فیصلے کو قبول کرینگی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو لوگ پارلیمنٹ کے تعطل کے ذمہ دار ہیں وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے موقف میں نہیں ہے کہ عوام نے گذشتہ عام انتخابات میں انہیں مسترد کردیا ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ ان کی حکومت پارلیمانی تعطل کو ختم کرنے ی راہ تلاش کرلے گی ۔

TOPPOPULARRECENT