Saturday , November 18 2017
Home / عرب دنیا / حوثیوں کا نماز تراویح پر امتناع، کئی علماء گرفتار

حوثیوں کا نماز تراویح پر امتناع، کئی علماء گرفتار

صنعاء ۔ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) یمن میں حکومت کا تختہ الٹ کراقتدار پرقبضے کرنے والے ایران نواز شیعہ باغیوں نے دارالحکومت صنعاء  کی مساجد میں آئمہ کرام کو تراویح کی نماز سے روکنے کے لیے وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کیا ہے اور ماہ صیام کے پہلے ایام میں مساجد کے کئی آئمہ اور علماء کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے چہارشنبہ کے روز متعدد آئمہ مساجد کو یہ کہہ کر حراست میں لے لیا گیا کہ انہوں نے حوثیوں کی وضع کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مساجد میں نماز تراویح کا با جماعت اہتمام کرنا شروع کر رکھا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ صنعاء کی مساجد میں نماز ترایح کی اجازت نہیں دیں گے اور اگرکسی مسجد میں تراویح کی نماز کا اہتمام کیا گیا تو مسجد کے پیش امام کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چہارشنبہ کو حوثی باغیوں کے مسلح اہلکاروں نے وادی احمد کے مقام پر واقع مسجد الفرقان پر چھاپہ مارا اور مسجد کے پیش امام الشیخ حسن الاھدل اور نائب امام الشیخ خالد الحبابی کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے مساجد کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ باجماعت تراویح کی نماز کا اہتمام نہیں کرسکتے، تاہم شہریوں نے حوثیوں کی ہدایات مسترد کرتے ہوئے باجماعت نماز تراویح جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حوثیوں کی جانب سے صنعاء کی مساجد کے آئمہ اور انتظامیہ سے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کرائے گئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ ماہ صیام کے دوران مساجد میں اعتکاف، تراویح اور دروس قرآن کا اہتمام نہیں کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT