Friday , December 15 2017
Home / سیاسیات / حُریت کیساتھ بات چیت کیلئے مرکزی نمائندہ کا کھلا ذہن

حُریت کیساتھ بات چیت کیلئے مرکزی نمائندہ کا کھلا ذہن

جموں و کشمیر میں دیرپا امن کا قیام مقصود۔ حکومتی عہدیدار کا بیان
نئی دہلی ۔ 26اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں علحدگی پسندوں اور حُریت کانفرنس کے ساتھ متواتر بات چیت کے انعقاد کیلئے مقررہ خصوصی نمائندہ کھلا ذہن رکھتے ہیں اور گڑبڑ زدہ ریاست میں دیرپا امن قائم کرنے کوشاں ہیں‘ ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے یہ بات کہی ۔ اس ہفتہ کے اوائل مرکز نے سابق ڈائرکٹر انٹلیجس بیورو دنیشور شرما کو جموں و کشمیر میں تمام متعلقین کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کیلئے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ۔ عہدیدار نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ اگرچہ ایسی باتیں پھیلا دی گئی ہیں کہ مرکزی حکومت نام نہاد حقیقی حاملین مفادات ( علحدگی پسند عناصر ) کے ساتھ بات چیت کیلئے آمادہ نہیں ہے لیکن یہ بات درست نہیں ۔ مرکزی حکومت یہی دہراتی آئی ہے کہ وہ ہر کسی کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے بشرطیکہ دیگر فریق بھی آمادگی کا مظاہرہ کرے اور بات چیت کیلئے آگے آئے ۔اس بات کا اعادہ حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے مختلف وفود کے ساتھ ملاقات میں کیا ‘جب کہ گذشتہ ماہ جموں و کشمیر کے دورہ پر تھے ۔ عہدیدار نے کُل جماعتی وفد کی ناکام کوششوں کی نشاندہی بھی کی جس نے گذشتہ سال ریاست کا دورہ کیا تھا اور حُریت کے کٹر پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی سے ملاقات کرنے میں ناکام رہا تھا ۔ موافق پاکستان علحدگی پسند لیڈر نے اس وفد کے اراکین کیلئے اپنی قیامگاہ کے دروازہ کھولنے سے انکار کیا تھا ۔ اُس وقت چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے برسراقتدار پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر کی حیثیت سے گیلانی کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ وفد سے ملاقات کیلئے آگے آئیں ‘ جسے علحدگی پسند لیڈر نے قبول نہیں کیا ۔ دنیشور شرما کا تقرر این ڈی اے حکومت کی طرف سے سرحدی ریاست میں تمام مکاتب فکر کے ساتھ بات چیت کی کوششیں جاری رکھنے کا حصہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT