Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت ،اقلیتی کالجس کے انتظامی امور میں مداخلت کی مجاز نہیں

حکومت ،اقلیتی کالجس کے انتظامی امور میں مداخلت کی مجاز نہیں

انتظامیہ کو مسلمہ حیثیت فراہم کرنے میں ٹال مٹول افسوسناک
حیدرآباد۔6جولائی (سیاست نیوز) اقلیتی کالجس کے انتظامی امور کے معاملات میں ریاستی حکومت اور یونیورسٹی مداخلت کی مجاز نہیں ہے اس کے باوجود اقلیتی کالجس کے انتظامیہ کو مسلمہ حیثیت فراہم کرنے کے معاملہ میں ٹال مٹول کے ذریعہ انہیں کونسلنگ سے دور رکھا جا رہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں اقلیتی تعلیمی ادارۂ جات کو یونیورسٹی سے الحاق کی فراہمی میں کی جانے والی تاخیر کالجس کے مستقبل کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں کالجس نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے مداخلت کی خواہش کی ہے جس پر عدلیہ نے محکمہ اعلی تعلیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس خصوص میں 7جولائی کو 11بجے دن تک اپنے موقف سے کالج انتظامیہ کو چاقف کروائے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے خانگی اقلیتی تعلیمی ادارۂ جات کو مسلمہ حیثیت کی فراہمی میں کی جانے والی تاخیر کے سبب عدالت سے رجوع ہونے والے کالج انتظامیہ کا استدلال ہے کہ اقلیتی اداروں کے لئے موجود رہنمایانہ خطوط کے مطابق انہیں یونیورسٹی کے کسی ذمہ دار کو اسٹاف کے انتخاب کیلئے تشکیل دیئے گئے پیانل میں شامل رکھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ اس پیانل میں یونیورسٹی کے عہدیدار کو شامل رکھا جائے۔ حکومت کی جانب سے اختیار کردہ موقف سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اقلیتی کالجس کے معاملات میں بالواسطہ طور پر مداخلت کی خواہاں ہے۔

دستور کی دفعہ30(1)کے تحت اقلیتی طبقات مکمل اختیارات کے ساتھ اپنے تعلیمی ادارے چلانے کے مجاز ہیں۔ کالجس کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریاست میں حکومت کی جانب سے انجینئرنگ کالجس و دیگر ادارۂ جات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے جو مہم چلائی گئی ہے اس کی مخالفت نہیں کی جا رہی ہے بلکہ حکومت کی اس کاروائی میں غیر ضروری ان کالجس کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کالجس اساتذہ کی تعداد اور سہولتوں کی فراہمی کے معاملہ میں کوئی مفاہمت نہیں کرتے بلکہ یہ کالجس آزادانہ طور پر اپنے ادارے چلاتے ہوئے تمام رہنمایانہ خطوط ‘ اصول و ضوابط کی پابندی کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان تعلیمی اداروں کو مسلمہ حیثیت کی فراہمی میں کیا جانے والا ٹال مٹول نا قابل فہم ہے۔ ریاستی حکومت اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے کا وعدہ کئے ہوئے ہے تو ایسی صورت میں پروفیشنل کالجس میں موجود اقلیتی کالجس کو فی الفور مسلمہ حیثیت فراہم کرنی چاہئے چونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اقلیتی کالجس کی نشستوں میں ہونے والی کمی کا راست نقصان ریاست میں رہنے والے اقلیتی طبقات کے نوجوانوں کو ہوگا جو اپنا سلسلۂ تعلیم جاری رکھتے ہوئے ریاست کو تعلیمی ترقی سے ہمکنار کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT