Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت ،اپوزیشن کو اعتماد میں لینے سے قاصر ، وزراء اور مشیروں کے ذریعہ یکطرفہ فیصلے

حکومت ،اپوزیشن کو اعتماد میں لینے سے قاصر ، وزراء اور مشیروں کے ذریعہ یکطرفہ فیصلے

جمہوریت میں اپوزیشن کو نظر انداز کرنا صحت مند روایت کے برخلاف ، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔/25مارچ ، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتی بہبود پر کُل جماعتی اجلاس طلب کریں اور حکومت کے منصوبوں سے واقف کرائیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کے دو سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن کے سی آر حکومت نے آج تک کسی بھی مسئلہ پر کُل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔ ہر مسئلہ پر چیف منسٹر نے اپنے وزراء اور مشیروں پر ہی انحصار کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کو نظرانداز کرنا صحتمند روایات کے برخلاف ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کو مسلم لیجسلیٹرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے 12فیصد مسلم تحفظات اور نئے بجٹ میں اعلان کی گئی اسکیمات پر عمل آوری کی حکمت عملی کو واضح کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے4 ماہ میں تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن کمیشن آف انکوائری کی میعاد میں پھر ایک بار توسیع کرتے ہوئے مسئلہ کو ٹال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دراصل تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ نہیں ہے۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل سیاسی جماعتیں طریقہ کار کا بھی تعین کرتی ہیں لیکن مسلم تحفظات جیسے اہم مسئلہ پر آج تک کے سی آر نے مسلم ارکان سے مشاورت نہیں کی اور نہ ہی ان کی رائے حاصل کی۔ اس مسئلہ پر چیف منسٹر نے اسمبلی اور کونسل میں علحدہ علحدہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر جو اقلیتی بہبود قلمدان کے انچارج ہیں انہیں مالیاتی سال 2015-16کے بجٹ کے خرچ نہ ہونے کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے پاس قلمدان کی موجودگی سے توقع کی جارہی تھی کہ اقلیتی بہبود کا بجٹ مکمل خرچ ہوپائے گا کیونکہ چیف منسٹر اقلیتوں کی بھلائی میں زبانی اعلانات کے ماہر ہیں لیکن نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ اقلیتوں کو بھی چیف منسٹر کے رویہ سے مایوسی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال کئی اہم اسکیمات پر مکمل عمل آوری نہیں کی گئی۔ حکومت نے 2016-17میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 1200کروڑ مختص کیا ہے اور 70اقامتی مدارس کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ گزشتہ سال بجٹ کا 40فیصد بھی خرچ نہیں ہوا لہذا چیف منسٹر کو مسلم ارکان کا اجلاس طلب کرتے ہوئے آئندہ سال بجٹ خرچ کے بارے میں موقف کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ 70  اقامتی مدارس کا بیک وقت آغاز کسی چیلنج سے کم نہیں اور اپوزیشن بھی اس اسکیم کی کامیابی کیلئے تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو کو اقلیتی اُمور کی ذمہ داری خوش آئند ہے اور اقامتی مدارس کے قیام کیلئے اے کے خاں کی مساعی سے امید کی جاسکتی ہے کہ اسکیم سے اقلیتوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی مدارس کے علاوہ قرض، شادی مبارک، اوورسیز اسکالر شپ، فیس بازادائیگی اور پیشہ ورانہ کورسیس کی کوچنگ جیسی اسکیمات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT