Thursday , November 23 2017
Home / اداریہ / حکومت اور بے نامی جائیدادیں

حکومت اور بے نامی جائیدادیں

کل اسی گھر کے مکیں ہم تھے شجیعؔ
آج مہمان بنے بیٹھے ہیں
حکومت اور بے نامی جائیدادیں
وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کے فیصلہ سے ہونے والی دشواریوں سے عوام کو ابھی نجات ہی نہیں دلائی اب ان پر بے نامی جائیدادوں کے نام پر ہراساں کرنے کیلئے قانون پر عمل آوری کا اشارہ دیا ہے۔ رشوت کے خلاف ان کی مہم کی کامیابی اور ناکامی کے نتائج عوام کے سامنے آنکھ مچولی کررہے ہیں ایسے میں ایک حکمراں کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہیکہ وہ سخت فیصلے کرنے کے ساتھ  اصل خاطیوں کو بے نقاب کرکے انصاف کے کٹھہرے میں لایا جائے۔ کالادھن، رشوت خوری کو ختم کرنے کے دعویٰ کے ساتھ جاری ہراساں کن صورتحال کو عوام آخر کب تک برداشت کریں گے۔ یہ حکومت کی جانب سے ایک ہراسانی کا فیصلہ سمجھا  جائے تو عوام کو اس صورتحال سے آخر کب تک دوچار کیا جاتا رہے گا یہ بھی واضح نہیں۔ بے نامی جائیدادوں کا پتہ چلانا ضروری ہے۔ ملک میں ٹیکس چوری کرنے والے دولتمندوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ان اصل ٹیکس چوروں کو کیفرکردار تک لانے سے پہلے ان کی نشاندہی کرنا اور انہیں عوام کے سامنے بے نقاب کرکے یہ ثابت کرنا بھی قانون والوں کا فریضہ ہے تاکہ عوام کو یہ احساس ہوجائے کہ واقعی حکومت نے اس ملک کے بڑے دھوکہ بازوں کو جیل کی سلاخوں کی پیچھے ڈال دیا ہے۔ گذشتہ 50 دن سے جاری عوامی مشکلات کا درد ابھی ختم ہی نہیںہوا ہیکہ یہ اشارے دیئے جارہے ہیں کہ لوگوں کو اپنی ہی رقم حاصل کرنے کیلئے مزید مصیبتوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ عام آدمی بھی اتنا ڈھٹ ثابت ہوتا ہوا معلوم ہورہا ہے کہ حکومت اس پر اپنے ناقص فیصلوں کا بوجھ ڈال رہی ہے تو وہ اس بوجھ کو ہنسی خوشی برداشت بھی کررہا ہے۔ حکمرانی کے فرائض انجام دینے کیلئے بلاشبہ چند سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور ان فیصلوں کی روشنی میں عام آدمی کو راحت و سکون فراہم کرنا ہوتا ہے مگر مودی حکومت کے سخت فیصلوں نے اصل رشوت خوروں، ذخیرہ اندوزوں، کالابازاریوں اور کالادھن رکھنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ یہ لوگ مودی حکومت سے قبل بھی توانا اور نڈر تھے اور مودی حکومت میں بھی ان کی توانائی پر کوئی آنچ نہیں آسکی۔ اس کا مطلب کالادھن اور غیرقانونی کاروبار برقرار ہے۔ صرف خسارہ غریبوں کا ہے۔ مصیبت غریبوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ گھنٹوں بینک اور اے ٹی ایمس کی قطار میں کھڑے رہنے والوں کو بھی اب عادت ہوگئی ہیکہ وہ صبح اٹھ کر لائن میں لگ رہے ہیں۔ عوام کا اپنی حکومت کی دی گئی مصیبت اسی طرح چپ چاپ قبول کرنا ایک مجبوری ہوسکتا ہے۔ حکومت جب عوام کو مجبور اور بے بس کرنے کی پالیسی کو ہی رشوت اور کالے دھن کے خاتمہ کیلئے ضروری سمجھتی ہے تو یہ اس کی یکسر بھول ہے۔ بے نامی جائیدادوں کے  خلاف بھی  کارروائی کرنے کی باتیں ایسی ہیں کہ چند کارپوریٹ گھرانوں کے ماسوا تمام لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ اس کا ہر عمل صرف اختیارات کے بیجا استعمال کی تعریف میں آئے گا۔ اس میں دورائے نہیں کہ ملک میں بدعنوانی، ٹیکس چوری اور دیگر خرابیاں موجود ہیں ان سے نمٹنے کے طریقہ کار بھی موجود ہیں مگر ان مروج اصولوں کے برعکس قانون کا ڈنڈا غلط ڈھنگ سے گھماتے ہوئے پریشان و ہراسان کرنا عوامی حکمرانی کیلئے مناسب نہیں۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ سیاستداں، تاجر اور غیرمقیم ہندوستانی جب جائیداد خریدتے ہیں تو جائیداد ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کیلئے حربے اختیار کرتے ہیں اور یہ حربے خود نظم و نسق سے جوڑا فرد ہی بتاتا ہے اور جائیدادوں کو اپنے رشتہ داروں اور بھروسے کے ملازمین کے نام کردینے ہیں۔ ایسے عوام کو روکنے کیلئے ضروری ہیکہ سرکاری محکمے رشوت سے پاک رہیں۔ خاطی عہدیداروں کو برطرف کرنے اور سخت سزاء دینے کا عمل عام ہوجائے مگر یہاں معاملہ ہی الٹا ہے۔ بدعنوان لوگ، رشوت خور سرکاری عہدیدار بری الذمہ ہوجاتا ہے اور جن کی جائیداد ہے انہیں ستایا جاتا ہے۔ حکومت اور اس کا نظم و نسق اپنے حصہ کی خرابیوں اور غلطیوں کو مستعجب سزاء نہیں مانتی ہے تو پھر یہ عوام الناس کی آزاد زندگی اور اختیاری عمل پر کاری ضرب ہے۔ اسے عرف عام میں سرکاری غنڈہ گردی کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ ٹیکس چوروں کا پتہ چلانے میں ناکام سرکاری عہدیدار اور حکومت صرف سادہ لوگوں کو نشانہ بنا کر اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکے گی۔ اصل ٹیکس چوروں اور کالا بازاریوں کو بے نقاب کرکے انہیں سزاء دینے سے ہی بھلائی کا قدم راحت بخش ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT