Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / حکومت اور حلیف جماعت تحفظات نہیں چاہتے

حکومت اور حلیف جماعت تحفظات نہیں چاہتے

جامع سروے کے بغیر تحفظات ناممکن، مرکز کو روانہ کرنا خودکشی کے مترادف
حیدرآباد۔/7جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اور اس کی حلیف جماعت مسلمانوں کو تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں کس حد تک سنجیدہ ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ان دنوں مسلمانوں اور سیاسی جماعتوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جنہوں نے عام انتخابات سے قبل اقتدار ملتے ہی 4 ماہ کے اندر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ درج فہرست قبائیل کے تحفظات کو بھی 12 فیصد کرنے کا اعلان کیاگیا۔ حکومت نے گذشتہ ڈھائی سال کی مدت میں اس وعدہ کی تکمیل کے سلسلہ میں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کی حلیف جماعت نے اس پر دباؤ بنانے کی کوشش کی کہ تحفظات کے وعدہ کی تکمیل کی جائے۔ سدھیر کمیشن کے قیام کے ذریعہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا جائزہ لیا گیا لیکن جب کمیشن نے رپورٹ پیش کی تو اسے باقاعدہ کمیشن کا موقف دیئے بغیر صرف ایک سرکاری کمیٹی کی رپورٹ کی حیثیت دی گئی۔ اس طرح سدھیر کمیشن کی رپورٹ کو غیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی شاید اس لئے کہ کمیشن نے مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر 9 تا 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی۔ ساتھ ہی ساتھ اس سلسلہ میں قانون سازی کا مشورہ دیا گیا۔ اگر حکومت کمیشن کی سفارشات میں سنجیدہ ہوتی تو وہ بی سی کمیشن کو اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے ایک جامع رپورٹ تیار کرواتی اور ساتھ میں مسلمانوں کی پسماندگی دوسرے پسماندہ طبقات کے مقابلہ میں رپورٹ تیار کرتی پھر جاکر کہیں سفارش رپورٹ کے بعد تحفظات کا اعلان کرتی۔ سدھیر کمیشن میں اگرچہ حکومت کی حلیف جماعت کے سفارش کردہ ماہرین موجود تھے اس کے باوجود رپورٹ کی پیشکشی کے بعد بھی حلیف جماعت نے کبھی بھی حکومت کو تحفظات کے سلسلہ میں مروجہ طریقہ کار اختیار کرنے کے سلسلہ میں رہنمائی نہیں کی۔ حکومت کی ہر معاملہ میں کھل کر تائید کرنے والی حلیف جماعت کو مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں نظر آئی۔ جس کا ثبوت سدھیر کمیشن کی سفارشات کو قبول کرنے کیلئے خاموشی اختیار کرنا ہے۔ حکومت اور حلیف جماعت میں شاید تحفظات کے مسئلہ پر پہلے ہی اتفاق رائے ہوچکا ہے اور وہ باہم یہ طئے کرچکے ہیں کہ تحفظات جیسے حساس مسئلہ پر مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے سرسری انداز میں کارروائی آگے بڑھائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بی سی کمیشن قائم کیا اور اسے مسلمانوں کے تحفظات کے مسئلہ پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ کمیشن نے اچانک 6 روزہ عوامی سماعت کا اہتمام کیا اور اسی بنیاد پر حکومت کو رپورٹ پیش کی جارہی ہے۔ اگرچہ کمیشن کو تحفظات کے حق میں 60تا70 ہزار نمائندگیاں موصول ہوئیں تاہم حکومت نے کمیشن کو اضلاع کا دورہ کرنے سے باز رکھا ہے اور اسے فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کمیشن جو حکومت کی ہدایت کے آگے بے بس تھا اس نے عجلت میں دن رات کام کرتے ہوئے رپورٹ تیار کرلی ہے اور اسے چیف منسٹر کے بلاوے کا انتظار ہے تاکہ رپورٹ حوالے کردی جائے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ رپورٹ کی تیاری کے سلسلہ میں جن ماہرین سے مدد حاصل کی گئی ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ کمیشن کو علحدہ طور پر جامع سروے کرنا چاہیئے تاکہ تحفظات کو قانونی کشاکش سے بچایا جاسکے۔ بی سی کمیشن نے علحدہ سروے اور اضلاع کا دورہ کرنے کے بجائے سدھیر کمیشن کی رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے اپنی رپورٹ تیار کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی قرارداد دونوں ایوانوں میں منظور کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ قرارداد مرکزی حکومت کو روانہ کرتے ہوئے دستور کے 9 ویں شیڈول میں اضافی تحفظات کو شامل کرنے کیلئے نریندر مودی حکومت کو راضی کرلیں گے۔ تحفظات کے امور سے واقف ایک عام آدمی بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ مرکز کو  قرارداد روانہ کرنا خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ نریندر مودی حکومت سے مسلم تحفظات میں اضافہ کی امید نہیں کی جاسکتی۔ بی جے پی پہلے ہی موجودہ 4فیصد تحفظات کی مخالفت کررہی ہے اور ملک بھر میں بی جے پی کی یہی پالیسی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نریندر مودی کس طرح مسلمانوں کے حق میں فیصلہ کرپائیں گے اور کے سی آر کس طرح انہیں اس کیلئے راضی کرسکتے ہیں۔ حکومت کو مختلف ماہرین کی جانب سے رائے دی گئی تھی کہ بی سی کمیشن عجلت میں رپورٹ پیش کرنے کے بجائے اضلاع کا دورہ کرے، لیکن نامعلوم سیاسی وجوہات کے باعث حکومت نے کمیشن کو جلد رپورٹ پیش کرنے کیلئے مجبور کردیا۔ تحفظات فراہم کرنے کے  یہ تمام مرحلے اگرچہ غیر قانونی اور غیر دستوری ہیں اس کے باوجود مقامی جماعت جو حکومت کی حلیف ہے اس سلسلہ میں خاموش دکھائی دے رہی ہے۔ اگر انہیں مسلمانوں کی تعلیم و روزگار میں  بہتر نمائندگی میں دلچسپی ہے تو  حکومت کو غیر قانونی طریقہ کار سے روکنا چاہیئے تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلی اجلاس میں حلیف اور دیگر  اپوزیشن جماعتوں کا کیا موقف ہوگا۔ کانگریس چاہتی ہے کہ کسی طرح تحفظات کے مسئلہ میں کے سی آر حکومت اپنے ہی جال میں پھنس جائے۔

TOPPOPULARRECENT