Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / حکومت اور عدلیہ کے درمیان اختلافات پھر منظر عام پر

حکومت اور عدلیہ کے درمیان اختلافات پھر منظر عام پر

New Delhi: Chief Justice of India T S Thakur with Union Law Minister Ravi Shankar Prasad and Minister of State in Prime Minister's Office (PMO) Jitendra Singh at the All India Conference of the Central Administrative Tribunal (CAT) in New Delhi on Saturday. PTI Photo by Atul Yadav(PTI11_26_2016_000022B)

ججوں کے تقرات کے مسئلہ پر چیف جسٹس اور وزیر قانون کی متضاد رائے

نئی دہلی ۔ /26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اور عدلیہ کے درمیان اختلافات کے کھلے عام اظہار کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے آج کہا کہ ہائی کورٹس اور ٹریبیونلس میں ججوں کی شدید قلت ہے اور یہ صورتحال حکومت کی مداخلت کی متقاضی ہے لیکن وزیر قانون روی شنکر پرساد نے ان کے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کیا ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبیونل کی کل ہند کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہائی کورٹس میں ججوں کے 500 عہدہ مخلوعہ ہیں ۔ انہیں آج یہاں کام کرنا چاہئیے تھا لیکن وہ نہیں ہیں ۔ ہندوستان میں فی الحال کئی کورٹ رومس مخلوعہ ہیں ۔ لیکن ان کے لئے ججس دستیاب نہیں ہیں ۔ کئی تجاویز ہنوز زیرتصفیہ ہیں اور امید کہ اس بحران کے خاتمہ کیلئے حکومت مداخلت کرے گی ۔ لیکن چیف جسٹس آف انڈیا کے اس نقطہ نظر سے عدم اتفاق کرتے ہوئے وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس سال 120 (ججوں کے) تقررات کئے گئے جو 1990 ء کے بعد سب سے زیادہ ہیں ۔ 2013 ء میں سب سے زیادہ 121 ججوں کے تقررات کئے گئے تھے ‘‘ ۔ وزیر قانون نے مزید کہا کہ ’’ہم پورے احترام کے ساتھ ان (چیف جسٹس) سے عدم اتفاق کرتے ہیں ۔ اس سال ہم 120 تقرارت کئے گئے ہیں ۔ جو 2013 ء کے بعد سب سے زیادہ تقررات ہیں ۔ 1990 ء کے بعد صرف 80 تقررات کئے گئے تھے ۔ تحت کی عدالتوں میںججوں کی 5000 جائیدادیں مخلوعہ ہیں لیکن ان پر تقررات میں حکومت ہند کا کوئی رول نہیں ہوتا ۔ یہ کچھ ایسا کام ہے جو عدلیہ ہی کرسکتی ہے ‘‘

TOPPOPULARRECENT