Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / حکومت او رپولیس میرے ساتھ ہے۔ ہجومی تشدد کے ملزم نے ثبوت مٹانے کے لئے راکھبرکی صفائی کی تھی۔ رپورٹ

حکومت او رپولیس میرے ساتھ ہے۔ ہجومی تشدد کے ملزم نے ثبوت مٹانے کے لئے راکھبرکی صفائی کی تھی۔ رپورٹ

این ڈی ٹی وی کے خفیہ کیمرے میں اصل ملزم کو ضمانت پر رہا دیکھائی جانے کے ایک روز بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے
نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے منگل کے روز ہاپور ہجومی تشدد میں ہلاکت معاملے میں پسماندگان کی جانب سے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس ائی ٹی تحقیقات کے مطالبہ پر دائر کردہ درخواست پر19اگست کو سماعت کیلئے حامی بھری ہے ‘ مبینہ طور پر مہلوک شخص پر گائے ذبیحہ کا شبہ کیاگیاتھا۔

درخواست میں ضمانت کو نامنظور کرنے اور کیس کو اترپردیش کے باہر منتقل کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ جون 18کے روز ہاپور میں64سالہ سمیع الدین اور قاسم قریشی کو بری طرح زدکوب کیاگیاتھاجن پر مبینہ طور پر سے گائے ذبیحہ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیاگیاتھا۔ دونوں کو بری طرح زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کیاگیا جہاں پر قریشی کی موت واقع ہوگئی تھی۔

جسٹس دیپک مشرا کی زیر قیادت بنچ نے وکیل ویریندر گرور کو قابل قبول قراردیا جنھوں نے متاثرہ سمیع الدین کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے معاملے کی عاجلانہ سنوائی کی درخواست پیش کی انہوں نے عدالت سے کہاکہ عاجلانہ سنوائی کی مانگ کی وجہہ اترپردیش پولیس نے 45سالہ گوشت کے کاروباری قاسم قریشی کی موت کو سڑک پر پیش آنے والے جھگڑے کا نتیجہ بتایاتھا۔این ڈی ٹی وی کے خفیہ کیمرے میں اصل ملزم راکیش سیسوڈیا کو ضمانت پر رہا دیکھائی جانے کے ایک روز بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

ایف ائی آر میں شامل گیارہ ناموں میں سے نو کو گرفتار کرلیاگیاتھا جس میں چار بشمول سیسوڈیا کی گرفتاری کے اندرون ایک ماہ ضمانت پر رہائی بھی عمل میں اگئی جس کی وجہہ سے متاثرہ خاندان میں کافی غم وغصہ پایاجاتا ہے او ران کا کہنا ہے کہ پولیس نے دفعات میں بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڑ کی ہے۔

خفیہ کمیرے میں انڈرکور رپورٹر سے سیسوڈیا یہ بتاتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ جولائی کے آخری ہفتہ میں جب وہ ضمانت پر رہا ہوا تو کس طرح اس کو ایک ہیرو کی طرح جلوس میں شکل میں گھر لے کر ائے۔اس نے بتایا کہ’’ مجھے لینے کے لئے تین چار گاڑیاں جیل پہنچیں تھیں۔ راکیش سیسوڈیا زندہ باد کے نعرے لگے۔

میرے استقبال لوگوں نے اپنی بانہیں پھیلا کر کیا ‘ مجھے بڑا فخر ہواہجومی تشدد کہ واقعات میں اپنے ہی تنقیدوں کا سامنا کررہی یوپی پولیس نے اپنے سخت تیور دیکھانی کی کوشش کی ہے۔ ہاپور سپریڈنٹ آف پولیس سنکلپ شرما نے کہاکہ’’ میں نے ویڈیو دیکھا ہے جس میں ملزم اپنے رول کے متعلق وضاحت کرتادیکھائی د ے رہا ہے۔

ہم پراسکیوٹر سے تبادلہ خیال کریں گے اگر یہ حصہ کو ثبوت کے طور پر پیش کیاجاسکتا ہے تو ہم اس کااستعمال سیسوڈیا کے خلاف ضرور کریں گے‘‘۔

اسٹنگ اپریشن میں سیسوڈیا کوکہتے ہوئے دیکھا یاگیا کہ ’’ سرکاری ہماری حمایت میں ہے اور یہ سب سرکاری کے دم سے تو ہورہا ہے۔ ورنہ اگر اعظم خان بیٹھا ہوتا تو پولیس حمایت میں کہاں رہتی ‘‘۔جئے پور کی نیشنل رائٹس ریسورس سنٹر( این آر آر سی) انسانی حقوق ‘ آر ٹی ائی کی حمایت میں مہم چلانے والوں او ر وکلاء کی جو ایک تنظیم ہے کا کہنا ہے کہ راکھبیر خان پر حملہ کرنے والوں نے رام گڑھ میں مبینہ طور پر پانی سے سے اسے صاف کیاتھا او رکپڑے بھی تبدیل کئے تھے تاکہ خون کے دھبں کے نشانہ جسم پر صاف کردئے جائیں۔

این آر آر سی کی رپورٹ کے مطابق الیاس خان متوفی کے بھائی نے پولیس کے مبینہ دعوے کو پہلے ہی مسترد کردیا ہے جو راکھبیر کے قتل کے متعلق کیاجارہا ہے۔ این آر آر سی ٹیم نے مانا ہے کہ ہجومی تشدد کے واقعات گھات لگاکر کئے جانے والے حملے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT