Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ اور آندھرائی قائدین کے درمیان گہرے مراسم

حکومت تلنگانہ اور آندھرائی قائدین کے درمیان گہرے مراسم

ٹی جی وینکٹیش کے ریمارک پر پروفیسر کانچہ ایلیا کی پولیس میں شکایت
حیدرآباد۔21ستمبر(سیاست نیوز) پروفیسر کانچہ ایلیا نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ کی برسراقتدار جماعت اور آندھرائی قائدین کے درمیان تعلقات ہیں جس کی بنیاد پر ہی آندھرا کے رکن اسمبلی نے میرے قتل کا فرمان جاری کیا ہے اور اگر حکومت تلنگانہ غیر علاقائی سیاسی قائدین کی اجارہ داری کو تلنگانہ میں قبول نہیں کرتی ہے تو حکومت بالخصوص پولیس کو چاہئے کہ وہ ٹی جی وینکٹیش کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیںگرفتار کرے ۔ پروفیسر کانچہ ایلیا نے میڈیا سے کہاکہ وہ ٹی جی ویکنٹیش کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس پولیس اسٹیشن میںشکایت کررہے ہیں۔ ایس وی کیندرم تا عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس پولیس اسٹیشن تک نکالی گئی اس ریالی میںجناب ظہیر الدین علی خان کے علاوہ ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی ‘ میناریٹیز تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ پروفیسر کانچہ ایلیا نے مزیدکہاکہ ہمیںپہلے سے ہی شبہ تھا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی آندھرائی قائدین اور تلنگانہ کی برسراقتدار حکمران جماعت کے درمیان تعلقات بنے ہوئے ہیں‘ورنہ ایک غیر علاقائی پارٹی کے رکن اسمبلی کی مجال نہیں کہ مجھکو مارنے او ربیچ سڑک پر سولی پر چڑھانے کا فرمان جاری کرے۔ پروفیسر کانچہ ایلیا نے مزیدکہاکہ میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میںنے آریہ ویشیا سماج پر ایک کتاب لکھی جو میرا جمہوری حق ہے مگر کتاب لکھنے کے بعد جس طرح کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کتاب لکھنے کے بعد میرے قتل کے مسلسل فرمان جاری کئے جارہے ہیںاور کاروائی کے نام پر پولیس اورریاستی انتظامیہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ریاست میںدلت ‘ پسماندہ او راقلیتی طبقات ہنوز انصاف سے محروم ہیںاور حکومت مراعات کے نام پر ان کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک پولیس ٹی جی وینکٹیش کی گرفتار ی عمل میں نہیںلاتی تب تک ہم خاموشی اختیار کرنے والے نہیںہیں۔ انہو ںنے کہاکہ اگر حکومت کو آندھرائی قائدین کے ساتھ اپنی سازباز کو غلط ثابت کرنا ہے تو انہیں ٹی جی وینکٹیش کوگرفتار کرکے دکھانا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT