Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو مستحکم بنانے کی کوششیں

حکومت تلنگانہ اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو مستحکم بنانے کی کوششیں

حیدرآباد۔/21اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اور اسرائیل کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے نام پر رشتوں کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پولیس، زراعت ، شہری ترقی اور دیگر شعبوں میں تلنگانہ حکومت کو تعاون کے نام پر اسرائیل تلنگانہ میں اپنے قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور شہری حقو

حیدرآباد۔/21اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اور اسرائیل کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے نام پر رشتوں کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پولیس، زراعت ، شہری ترقی اور دیگر شعبوں میں تلنگانہ حکومت کو تعاون کے نام پر اسرائیل تلنگانہ میں اپنے قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور شہری حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف مختلف شعبوں میں اسرائیل کی مدد حاصل کرنے میں پیش پیش ہے۔ حالیہ عرصہ میں ریاست کے بعض اہم پولیس عہدیداروں نے اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے امن و ضبط کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اسرائیلی پولیس سے ٹریننگ حاصل کی تھی خاص طور پر غیر سماجی عناصر سے نمٹنے اور ہجوم کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں اسرائیلی پولیس سے مبینہ طور پر ٹریننگ حاصل کی گئی۔ پولیس کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے ٹریننگ کے نام پر حالیہ عرصہ میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور اس دورہ کے نتائج بھی برآمد ہونے لگے ہیں۔ مختلف الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو انکاؤنٹر کے نام پر ہلاک کرنا اور مختلف علاقوں کی ناکہ بندی کے ذریعہ گھر گھر تلاشی اسی ٹریننگ کا نتیجہ سمجھا جارہا ہے۔ جس طرح اسرائیلی حکومت فلسطینی مجاہدین کے خلاف کارروائی انجام دیتی ہے ٹھیک اسی طرح تلنگانہ پولیس بھی گھر گھر تلاشی کے نام پر عوام کے حقوق کو تلف کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کسی بھی قانون کے تحت پولیس کو اس طرح بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخلہ اور تلاشی کی اجازت نہیں لیکن تلنگانہ پولیس نے تمام قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی اس مہم کو جاری رکھا ہے۔

گزشتہ دنوں تلنگانہ میں پیش آئے انکاؤنٹر کے دو واقعات اسرائیلی پولیس کی کارروائیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ایک اور معاملہ میں تلنگانہ حکومت نے اسرائیل کے ساتھ رشتوں کو مستحکم بنانے کا قدم اٹھایا ہے۔27 تا 30اپریل تل ابیب اسرائیل میں منعقد ہونے والی 19ویں انٹر نیشنل اگریکلچرل ایگزیبیشن ’’ اگری ٹیک 2015‘‘ میں سرکاری وفد کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی کی قیادت میں بعض عوامی نمائندے اور عہدیدار اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اس دورہ کو تلنگانہ حکومت نے منظوری دے دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو وفد اسرائیل کا دورہ کررہا ہے اس میں اگرچہ بعض عوامی نمائندے شامل ہیں لیکن ان کی شناخت کسان کی حیثیت سے کی جارہی ہے۔ وفد میں وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی کے فرزند بھی شامل ہیں جنہیں پروگریسیو فارمر بتایا جارہا ہے۔ وفد کی روانگی کے سلسلہ میں حکومت نے جی او آر ٹی 204 جاری کیا۔

برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی ای رویندر ریڈی، کے ودیا ساگر راؤ ، ڈی منوہر ریڈی اور گنگولا کملاکر اس وفد میں شامل ہیں جبکہ وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی کے فرزند پی بھاسکر ریڈی بھی وفد کا حصہ ہیں۔ ان پانچوں کو جی او میں پروگریسیو فارمر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ وفد کے دیگر ارکان میں وی پراوین راؤ رجسٹرار و اسپیشل آفیسر، پروفیسر جے شنکر ( تلنگانہ اگریکلچرل یونیورسٹی) ، ایل وینکٹ رام ریڈی کمشنر ہارٹیکلچر، جی موہن ریڈی پرسونل سکریٹری برائے وزیر زراعت اور پی بھاسکر ریڈی چیرمین پرائمری اگریکلچرل کوآپریٹیو سوسائٹیز شامل ہیں۔ ان تمام کے سفری اخراجات کی تکمیل پروفیسر جے شنکر تلنگانہ اگریکلچرل یونیورسٹی راجندر نگر کی جانب سے کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں یونیورسٹی کے رجسٹرار کو حکومت کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اسرائیل کو حکومت کے زرعی وفد کے نام پر عوامی نمائندوں کی روانگی کے فیصلہ نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ چار ارکان اسمبلی اور وزیر زراعت کے فرزند کو کسانوں کی حیثیت سے پیش کرنے پر اپوزیشن اور کسانوں کی تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ جی او میں جس 8 رکنی وفد کی روانگی کا ذکر کیا گیا ہے ان میں وزیر زراعت کا نام شامل نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی روانگی کے بارے میں محکمہ جی اے ڈی سے علحدہ جی او جاری کیا جائے گا۔ وفد میں وزیر زراعت اور ان کے فرزند کی موجودگی پر کئی گوشوں سے اعتراضات کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT