Thursday , November 15 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ ریاست کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کی پابند عہد

حکومت تلنگانہ ریاست کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کی پابند عہد

کلیۃ البنین میں نماز گاہ کا افتتاح، مختلف شخصیتوں کو تہنیت، محمد محمود علی کا خطاب

حیدرآ باد۔21جنوری(سیاست نیوز) سماجی برائیوں کے خاتمے اور عائلی مسائل کی یکسوئی کے لئے مساجد کو اپنا مرکز بنانے پر زوردیتے ہوئے نائب وزیراعلی الحاج محمد محمودعلی نے کہاکہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے عائلی مسائل کی یکسوئی کے لئے علماء اکرام اور مشائخین عظام سے رجوں ہوں تاکہ بنیاد پرست سازشوں کو فروغ پانے کا موقع نہ مل سکے۔ وہ آج مغل پورہ میں کلتیہ البنین میں نماز گاہ کی افتتاحی تقریب سے مخاطب تھے۔ اس موقع پر انھوں نے کہاکہ ملک کے حالات تیزی کیساتھ تبدیل ہورہے ہیںاور فرقہ پرست طاقتیں کسی نہ کسی بہانے سے اقلیتوں کو نشانہ بنارہے ہیں بالخصوص مسلمانوں کے شرعی اور عائلی معاملات کو اچھالا جارہا ہے۔ ایسے میں ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ ہم اپنے مسائل کی یکسوئی کو قوم او رملت کے علماء اکرام اور دانشواروں سے رجوع کریں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر مساجد عائلی مسائل کی یکسوئی کے مراکز بنتے ہیں تو یہ بات دعوی کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی سماجی برائیوں پر آسانی کے ساتھ قابو پایاجاسکتا ہے۔ جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ ملک میںجہاں پر بھی بی جے پی کی حکومت ہے وہاں پر کسی نہ کسی بہانے سے مسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ انہو ںنے اپنے خطاب میں اترپردیش کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ اس ریاست میں جب سے بی جے پی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے تب سے آج تک ایسا کام ضرورکیاجارہا ہے جس سے مسلمانوں کے اندر احساس کمتری پیدا کی جاسکے۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ آج سارے ملک کے مسلمانوں اور حکمرانوں کی نظر تلنگانہ پر لگی ہوئی ہے جس نے اپنے قیام کے مختصر وقفہ میںترقی کے اونچائیاں طئے کرلی ہیں۔جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کا سکیولر اقدار آج سارے ملک کے لئے ایک مثال بنا ہوا ہے۔ انہوںنے مزیدکہاکہ دینی مدارس میںتعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو یونیورسٹی میںداخلہ کی گنجائش بھی حکومت کا ہی کارنامہ ہے۔ چندرشیکھر رائو نے نہ صرف دورہ کیابلکہ 14 کروڑ کی لاگت سے عالیشان اڈیٹوریم تعمیر بھی کروایا۔ مسلم طلبہ کو بیرونی ممالک میںتعلیم حاصل کرنے کے لئے بیس لاکھ روپئے کی تعلیمی امداد بھی حکومت تلنگانہ کا ہی کارنامہ ہے۔ جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ میں یہ بات بھی دعوی کے ساتھ کہوں گا حکومت ریاست میںمسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کسی بھی صورت میںفراہم کریگی ۔ تلنگانہ ریاست میںتو 95فیصد آبادی پسماندہ طبقات پر مشتمل ہے۔ کسی بھی صورت میںحکومت ریاست کے مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کے اپنے وعدے کی پابند عہد ہے۔ مولاناسید درویش محی الدین قادری نے مسجد کی اہمیت او راحترام اور مساجد کو آباد رکھنے کے فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ رکن تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن جناب متین الدین قادری نے مسجد کے قیام کی ستائش کی ۔ جناب عبدالوحید ایڈوکیٹ رکن تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے حکومت تلنگانہ کے مسلمانوں کے تئیں فلاحی اقدامات کا ذکر کیا۔ اس موقع پر تمام مہمانوں کو منتظمین کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی ۔ بعدازاں باجماعت نماز بھی مسجد میںادا کی گئی ۔ مولانا مفتی عظیم الدین کی رقت انگیز دعاء پر تقریب کا اختتام عمل میںآیا۔ جنا ب شبیراحمد ٹی آر ایس انچار ج چارمینار‘ عبدالحکیم ٹی آر ایس لیڈر‘ محمد تاج الدین تلگودیشم اقلیتی سل صدراور دیگر نے بھی اس افتتاحی تقریب میںشرکت کی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT