Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ سے آئندہ مالیاتی سال کے لیے اقلیتی بجٹ میں اضافہ

حکومت تلنگانہ سے آئندہ مالیاتی سال کے لیے اقلیتی بجٹ میں اضافہ

نئی اسکیمات کو متعارف کرنے کی تجویز ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا اقلیتی عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔ 9۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمدمحمود علی نے کہا کہ آئندہ مالیاتی سال تلنگانہ حکومت اقلیتوں کیلئے بجٹ میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے۔اس کے علاوہ بعض نئی اسکیمات کا آغاز کیا جائے گا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آج اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ بجٹ کی تیاری اور اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہاکہ حکومت جاریہ سال مختص کردہ 1130 کروڑ روپئے کے مکمل خرچ کے حق میں ہے اور تیسرے سہ ماہی کا بجٹ جلد ہی جاری کیا جائے گا ۔انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اسکیمات پر عمل آوری میں تیزی پیدا کریں تاکہ مکمل بجٹ خرچ کیا جاسکے۔ محمود علی نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے حق میں کافی سنجیدہ ہیں اور انہوں نے شادی مبارک اسکیم کے تحت 100 کروڑ روپئے کے نشانہ کی تکمیل کی ستائش کی۔ چیف منسٹر نے نہ صرف مزید 50 کروڑ روپئے منظور کئے بلکہ ضرورت پڑنے پر مزید مساوی رقم جاری کرنے کا تیقن دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ میں دو لاکھ غریب خاندانوںکی لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد جاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے حیدرآباد اور رنگا ریڈی میں مزید 700 آٹو رکشا کی اجرائی کیلئے جلد احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے 700 درخواست گزاروں کو جو قرعہ اندازی میں منتخب نہیں ہوئے جلد ہی آٹو جاری کئے جائیں گے ۔ فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اسکیم پر عمل آوری کیلئے ٹرانسپورٹ عہدیداروں اور بینکوں سے بات چیت کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں اسکیم کی تکمیل کے بعد ہر ضلع میں 500 آٹو جاری کرنے کی تیاری کی جائے۔ محمود علی نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ آئندہ مالیاتی سال کے لئے اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے سلسلہ میں تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے آئندہ سال جون سے 60 انگلش میڈیم اقامتی مدارس کے آغاز کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ چیف منسٹر کے اعلان کے مطابق کرایہ کی عمارتوں میں ان کا آغاز کیا جائے اور ایک سال میں ذاتی عمارتیں تعمیر کردی جائیں۔ ہر عمارت کی تعمیر پر 20 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ ہر ضلع میں مرکزی مقام پر اراضی کی نشاندہی کی جائے گی اور یہ کام  ضلع کلکٹرس کو تفویض کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT