Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ سے زرعی کسانوں کو مارچ میں ای ۔ پاس بُک کی اجرائی

حکومت تلنگانہ سے زرعی کسانوں کو مارچ میں ای ۔ پاس بُک کی اجرائی

تحصیلداروں اور سب رجسٹراروں کو عنقریب ہدایت، اقدامات میں تیزی

حیدرآباد۔14جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ 11مارچ کو ریاست کے زرعی کسانوں کو ان کے ای۔پاس بک حوالہ کرے گی۔ ریاست تلنگانہ ملک میں پہلی ریاست ہوگی جو کسانو ںکو ای۔پاس بک کی اجرائی کے ذریعہ ان کے اراضیات ریکارڈ اور اراضیات کی تبدیلی و فروخت کے متعلق مطلع رکھنے کے سلسلہ میں الکٹرانک پاس بک کو روشناس کروانے جا رہی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست گیر سطح پر موجود تحصیلداروں کو سب رجسٹرار کے اختیارات دیئے جائیں تاکہ اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنایاجاسکے۔ تلنگانہ میں موجود اراضیات کے ریکارڈ کی تیاری اور ان کے تحفظ کیلئے حکومت کی جانب سے کئے گئے اراضی سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں 2.8 کروڑ ایکڑ اراضی موجود ہے اور اس میں 1.42 ایکڑ اراضیات تنازعات سے پاک ہیں جبکہ مابقی اراضیات پر تنازعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 17.89 لاکھ ایکڑ اراضیات میں بڑے تنازعات کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس میں فریقین کے درمیان تنازعہ پایا جاتاہے ۔11.95ایکڑ ایسی اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جو غیر زرعی اراضی ہے لیکن کسانوں کے قبضہ میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے اراضیات کے تحفظ کیلئے جاری کئے جانے والے نئے الکٹرانک پاس بک کے سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ اگر کسی کی اراضی کی منتقلی یا فروخت اور نام کی تبدیلی کی صورت میں مالک کو فوری ایس ایم ایس موصول ہوگا اور جائیداد کی منتقلی کی تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔محکمہ مال کی رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ میں 24لاکھ ایکڑ اراضی پر شہر ‘ رہائشی علاقہ ‘ اور غیر متنازعہ جنگلاتی علاقہ ہیں ۔ حکومت کی جانب سے کسانو ںکو فوری طور پر الکٹرانک پاس بک کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے منظوری دی جا چکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ 11 مارچ کو ایک دن میں تمام کسانو ںکو ان کی زرعی اراضی کیلئے ای۔پاس بک کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی کسانو ںکو سالانہ فی ایکڑ 8000 روپئے معاوضہ برائے کاشت کا بھی اعلان کردیا جائے گا ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس سلسلہ میں متعلقہ عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس کے دوران اس بات کا اعلان کیا کہ ریاست میں ای۔پاس بک کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کو تیز تر کیا جائے اور 11 مارچ کی تاریخ میں کوئی توسیع نہ کی جائے بلکہ عاجلانہ طور پر تمام ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنے کے اقدامات کو ممکن بنایا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT