Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / حکومت تلنگانہ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ

حکومت تلنگانہ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ

چیرمین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین کی حصول جائزہ تقریب ، وزراء ای راجندر اور محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔10 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور وزیر فینانس ای راجندر نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں تلنگانہ حکومت مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی میں سنجیدہ ہے اور گزشتہ تین برسوں میں حکومت کے اقدامات نے یہ ثابت کردیا کہ ٹی آر ایس مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر فینانس آج اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین سید اکبر حسین کے جائزہ حاصل کرنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ حج ہائوز میں منعقدہ اس تقریب میں وزیر فینانس ای راجندر نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے 201 اقامتی اسکولس کا قیام تلنگانہ حکومت کا کارنامہ ہے اور چیف منسٹر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی ایک منصوبے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران مشکل حالات میں کام کرنے والے قائدین اور کارکنوں کو چیف منسٹر سرکاری عہدوں پر نامزد کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں عام زمرے کے 10 اداروں پر تقررات کئے گئے جن میں پانچ اداروں پر اقلیتی قائدین کا تقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت صرف تعلیمی اور معاشی ترقی پر توجہ نہیں دے رہی ہے بلکہ سرکاری عہدوں میں بھی مسلمانوں کو نمائندگی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں اور دیگر پارٹیوں کی طرح ٹی آر ایس اقلیتوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال نہیں کرتی۔ وزیر فینانس نے کہا کہ سرکاری اسکیمات کے علاوہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں ہر سال اضافہ کیا جارہا ہے۔ متحدہ آندھراپردیش میں اقلیتی بہبود کا جو بجٹ تھا، اس سے کہیں زیادہ بجٹ تلنگانہ ریاست میں نہ صرف مختص کیا گیا بلکہ اس کے خرچ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ سابق میں بجٹ کے خرچ کی صورتحال  مایوس کن رہی۔ ای راجندر نے کہا کہ فلاح و بہبود کی اسکیمات میں تلنگانہ دیگر ریاستوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کارپوریشن کے نو نامزد صدور نشین کو مشورہ دیا کہ وہ عوامی خدمت کے لیے خود کو وقف کردیں۔ چیف منسٹر نے جن توقعات کے ساتھ عہدے کی ذمہ داری دی ہے اسے پورا کیا جانا چاہئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے مسلمانوں کو ہر شعبہ میں ترقی کی مثال قائم کی ہے۔ تلنگانہ جدوجہد کے دوران کے سی آر اکثر کہا کرتے تھے کہ تلنگانہ گنگا جمنی تہذیب اور سکیولرزم کا گہوارہ رہے گا۔ ٹی آر ایس حکومت نے اسے سچ ثابت کیا اور آج تلنگانہ میں گنگا جمنی تہذیب پروان چڑھ رہی ہے۔ محمود علی نے کہا کہ سابق میں اقلیتوں کو صرف اقلیتی اداروں پر نامزد کیا جاتا تھا لیکن اس بار چیف منسٹر نے عام زمرے کے اداروں پر تقررات کرتے ہوئے ملک میں مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر ضلع سے پہلی مرتبہ کسی مسلمان کو صدرنشین کا عہدہ دیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ فلاحی اور ترقیاتی کاموں میں چیف منسٹر ملک بھر میں نمبر ون اور تلنگانہ نمبر ون ریاست ہے۔ چیف منسٹر کو اقلیتوں کا مسیحا قرار دیتے ہوئے محمد محمود علی نے کہا کہ سیول سرویسس کی کوچنگ فراہم کرتے ہوئے اقلیتی طلبہ کو آئی اے ایس اور آئی پی ایس بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ حکومت اپنے خرچ پر کوچنگ کا اہتمام کررہی ہے اور آئندہ 10 تا 15 برسوں میں تلنگانہ سے تقریباً 200 آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیدار تیار ہوں گے۔ بیرون ملک اعلی تعلیم کے لیے اقلیتی طلبہ کو اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت 20 لاکھ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے صدرنشین کارپوریشن کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی بہتر کارکردگی کے ذریعہ چیف منسٹر کا نام روشن کریں۔ محمد محمود علی نے پارٹی قائدین اور کارکنوں کو یقین دلایا کہ آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ بھی مکمل انصاف کیا جائے گا اور انہیں سرکاری عہدے حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قائدین اور کارکن مایوس نہ ہوں کیوں کہ آئندہ 30 تا 40 برسوں تک ٹی آر ایس حکومت برقرار رہے گی اور ہر کسی کو موقع ملے گا۔ سرکاری عہدے کم ہوتے ہیں اور بیک وقت تمام کو موقع نہیں مل سکتا۔ آج نہیں تو کل ضرور کارکنوں کو سرکاری عہدوں میں نمائندگی حاصل ہوگی۔ تقریب میں ارکان قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین، محمد سلیم، بھانو پرساد، ارکان اسمبلی جی کملاکر، آر بال کشن، شریمتی شوبھا، ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین اور ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین شریک تھے۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر فینانس نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ویب سائٹ کا آغاز کیا۔

TOPPOPULARRECENT