Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام

حکومت تلنگانہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام

بلند بانگ وعدے، عمل ندارد، راجیہ سبھا میں مسلمانوں کو نمائندگی دینے سے گریز

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔12مارچ۔حکومت تلنگانہ نے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے اور انہیں اہمیت نہ دینے کی تاریخ رقم کرنی شروع کردی ہے بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت تلنگانہ کو مسلمانوں کے مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یا پھر حکومت میں ایسے عہدیدار ہیں جو حکومت کو مسلمانوں کی ترقی فلاح وبہبود کے سلسلہ میں کئے گئے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے سے روکتے ہیں یا رکاوٹ پیداکرتے ہوئے انہیں تعطل کا شکار بناتے ہیں۔چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں سے 12فیصد تحفظات کا ہی ایک وعدہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے مسلمانوں سے کئی وعدے کئے لیکن ان وعدوں کو پورا کرنے میں ان کی حکومت اور عہدیدار ناکام نظر آرہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران 9نومبر 2017کو 66 اردو آفیسرس کے تقرر کا اندرون دو ہفتہ کرنے کا اعلان کیا اور اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اب تک 66 جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ بعض شہرت پسند عہدیدار ہر ماہ اندرون دو ہفتہ اعلامیہ کی اجرائی کے اعلانات میں مصروف ہیں۔18جون 2017کو چیف منسٹر نے انیس الغرباء کے نئے کامپلکس کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور اس کیلئے 21کروڑ کی اجرائی کا اعلان کیا گیا تھالیکن اب تک نئی عمارت کی تعمیر کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔21جنوری 2017 کو مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے منی کنڈہ میں 40کروڑ کی لاگت سے 6ایکڑ اراضی پر بین الاقوامی اسلامک سنٹر کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔23اکٹوبر 2017 کو چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کے لئے علحدہ آئی ٹی کاریڈار اور انڈسٹریل پالیسی تیار کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ مسلمانوں کی معاشی ترقی کیلئے یہ اقدامات کئے جائیں گے تاکہ انہیں مساوی مواقع فراہم کئے جاسکیں۔ اسی طرح گذشتہ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی چیف منسٹر نے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو عدالتی اختیارات فراہم کرنے کے منصوبہ کابھی اعلان کیا تھا لیکن اس سلسلہ میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔تلنگانہ راشٹر سمیتی نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ٹی آر ایس کو تلنگانہ میں اقتدار حاصل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اندرون 4ماہ 12فیصد تحفظات کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس مسئلہ کو تعطل کا شکار بناتے ہوئے کافی طویل عرصہ گذرنے کے بعد تلنگانہ کی سرکردہ شخصیتوں کے دباؤ کے تحت اسمبلی میںبل منظور کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر مرکز اس بل کو منظور نہیں کرتا ہے تو ایسی صورت میں عدالت سے رجوع ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔حکومت کی جانب سے ہر سال محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن گذشتہ 4برسوں کے دوران بجٹ کے اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی میں کوتاہی کی کئی مثالیں قائم کی گئی ہیں۔11اکٹوبر 2016 کو مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے فارم ہاؤز پر منعقدہ ایک اجلاس کے دوران اقلیتی قائدین کو اس بات کا تیقن دیا تھا کہ وہ آئندہ راجیہ سبھا کے دوران ایک مسلم رکن راجیہ سبھا کی نامزدگی کو یقینی بنائیں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا اس کے علاوہ انہوں نے اقلیتی اداروں کے سیاسی تقررات کا اعلان کیا تھا لیکن چند عہدوں پر تقررات کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی گئی۔اسی اجلاس کے دوران انہوں نے جناب شفیق الزماں کو حکومت کا مشیر برائے اقلیتی امور بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد ازاں سیاسی دباؤ کے نتیجہ میں نام تبدیل کردیا گیا۔اس کے برعکس حکومت نے 20 جون 2017 کو پسماندہ طبقہ میں بھیڑوں کی تقسیم کی اسکیم کا اعلان کیا اور 9فروری 2018کو 35لاکھ بھیڑوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔چیف منسٹر نے پسماندہ طبقہ سے وعدہ کیا تھا کہ راجیہ سبھا میں بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائد کی نامزدگی کو یقینی بنایا جائے گااور اب تک جملہ6ارکان راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس نے 4بی سی امیدواروں کی نامزدگی کو یقینی بنایا ہے اور بی سی ویلفیر کے بجٹ کی اجرائی کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بی سی ویلفیر کا بجٹ 70 فیصد سے زیادہ جاری کیا جا رہاہے اور مابقی بجٹ کی گرین چیانل سے اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ بی سی طبقہ کیلئے حکومت کی جانب سے ’’کار کے مالک بنئے ‘‘ اسکیم کی شروعات 2016میں کی گئی اور اس اسکیم پر مؤثر عمل آوری کی جا رہی ہے علاوہ ازیں ان کار ڈرائیورس کو اوبر اور اولا جیسی خدمات سے مربوط کروانے میں حکومت کی جانب سے پہل کی جا رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT