Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ پر تعلیمی شعبہ کو مکمل نظر انداز کرنے کا الزام

حکومت تلنگانہ پر تعلیمی شعبہ کو مکمل نظر انداز کرنے کا الزام

ریزیڈنشیل اسکولس کے آغاز سے متعلق وضاحت پر زور ، محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے تعلیمی شعبہ کو مکمل نظر انداز کرنے کا تلنگانہ حکومت پر الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی کہ ریزیڈنشیل اسکولس میں تعلیم کا آغاز جون سے ہوگا یا آئندہ سال سے ہوگا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے خازن مسٹر جی نارائن ریڈی اور سکریٹری مسٹر محمد جاوید احمد بھی موجود تھے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے تعلیم پر مختلف ریاستوں کی جانب سے کئے جانے والے مصارف پر ریزرو بنک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 4 کروڑ آبادی رکھنے والی تلنگانہ ریاست کو اس فہرست میں سب سے آخری مقام حاصل ہوا ہے ۔ 2014-15 میں تلنگانہ حکومت نے تعلیم پر 10.8 فیصد فنڈز خرچ کئے جب کہ سال 2015-16 میں صرف 10 فیصد فنڈز خرچ کئے گئے ہیں ۔ تلنگانہ سے چھوٹی ریاستوں چھتیس گڑھ نے 19.4 فیصد مہاراشٹرا نے 19.1 فیصد آندھرا پردیش نے 16.2 فیصد اور کرناٹک 14.4 فیصد فنڈز خرچ کئے ہیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے فاضل بجٹ والی ریاست ہونے کا دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ کم از کم تعلیم پر 20 فیصد فنڈز خرچ کریں ریاست میں تعلیمی معیار کو اونچا کریں ۔ سپریم کورٹ نے ریاست میں تقریبا 400 اسکولس میں صفر داخلہ پر ریمارکس کرتے ہوئے حکومت کے منھ پر طمانچہ رسید کیا ہے ۔ حکومت نیند سے بیدار ہوجائے نئے تعلیمی سال سے سرکاری اسکولس میں صد فیصد داخلوں کو یقینی بنانے کے لیے جنگی خطوط پر اقدامات کریں اعلیٰ عہدیداروں کی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے گھروں تک محدود رہنے والے بچوں کا اسکولس میں داخلہ دلوانے کو یقینی بنائے ۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ مگر اس جانب ابھی تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ صرف 250 ریزیڈنشیل اسکولس قائم کرنے کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کانگریس کے دور حکومت میں بھی ریزیڈنشیل اسکولس بالخصوص اقلیتوں کے لیے ریزیڈنشیل اسکولس قائم کئے گئے ہیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ قومی سطح پر شرح خواندگی 73.99 فیصد ہے جب کہ تلنگانہ میں 66.46 فیصد ہے ۔ حکومت ریاست میں خواندگی کی شرح میں ضروری اقدامات کریں ۔ اسکولس میں بنیادی سہولتیں ، انفراسٹرکچرس اور اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر عاجلانہ طور پر تقررات کریں ۔ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں 410 خانگی کالجس بند کردئیے گئے ہیں جس میں 88 انجینئرنگ 26 بی فارمیسی 40 ایم سی اے 84 ایم بی اے 49 بی ایڈ 99 ایم ٹیک 21 ایم فارمیسی اور 3 ڈی فارمیسی کالجس شامل ہیں ۔ جاریہ سال مزید 40 انجینئرنگ کالجس کے انتظامیہ نے کالجس بند کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ ان کالجس کے بند ہونے سے 46.040 نشستوں پر مختلف کورسیس میں داخلہ بند ہوگیا ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ڈگری کالجس میں 116 کے منجملہ 70 پرنسپلس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ 2761 کے منجملہ 1105 لکچرارس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ فزیکل ڈائرکٹرس کے 63 کے منجملہ 36 جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ 11 یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کے تمام جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔۔
ٹیٹ امیدواروں کے لیے میگا ٹسٹ
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : ٹیچرس کے اہلیتی امتحان ٹیٹ کے امیدواروں کیلئے میگا ٹسٹ دونوں پرچوں کیلئے پانچ مضامین / سکشن کے 150 سوالات کا اتوار 24 اپریل 11 بجے تا دو بجے دن رکھا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ تین مضامین کے ماہرین خصوصی لکچر دیں گے ۔ امیدوار وقت پر دفتر سیاست کے محبوب حسین جگر ہال عابڈس پر شریک ہو کر استفادہ کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT