Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ کے بجٹ 2016-17 کی تیاری کا آغاز

حکومت تلنگانہ کے بجٹ 2016-17 کی تیاری کا آغاز

فلاحی اسکیمات میں اضافہ کی تجویز، اقلیتی بہبود کے بجٹ میں بھی اضافہ متوقع

حیدرآباد۔/9جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے بجٹ 2016-17 کی تیاری کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت فلاحی اسکیمات کے بجٹ میں اضافہ کی تجویز ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور وزیر فینانس ای راجندر نے بجٹ کی تیاری کے مسئلہ پر مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ ایک سے زائد مرتبہ اجلاس طلب کیا جس میں محکمہ جات سے موصولہ بجٹ تجاویز پر غور کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت آئندہ سال اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے 1130 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا تھا تاہم ابھی تک صرف 50فیصد بجٹ مختلف اسکیمات کیلئے جاری کیا گیا۔ حکومت مالیاتی سال کے اختتامی مرحلہ میں مزید بجٹ جاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس طرح توقع ہے کہ جاریہ سال 70فیصد بجٹ جاری کیا جاسکتا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع نے بتایا کہ آئندہ مالیاتی سال اقلیتی طلباء کیلئے 60 اقامتی مدارس کے قیام اور مرکزی حکومت کی ہمہ جہتی ترقیاتی اسکیم پر عمل آوری کو بجٹ میں شامل کرتے ہوئے بجٹ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے اقلیتی طلباء کیلئے 30 اور طالبات کیلئے 30اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے مجموعی طور پر 1786کروڑ روپئے مختص کئے جائیں گے۔ ہر اسکول پر 20کروڑ روپئے کے خرچ کا تخمینہ مقرر کیا گیا ہے۔ اقامتی مدارس کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کیلئے 2786جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی اور ان کے تقررات کے طریقہ کار کو طئے کرنے کیلئے اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت جاری ہے۔ تدریسی اسٹاف کے تقررات پبلک سرویس کمیشن یا محکمہ تعلیم کے ذریعہ عمل میں لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ 20مقامات پر اوقافی اراضی کی نشاندہی کرلی گئی جہاں اقامتی مدارس تعمیر کئے جائیں گے جبکہ دیگر مقامات پر سرکاری اراضی کی نشاندہی کیلئے ضلع کلکٹرس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اراضی کی نشاندہی میں تاخیر کے سبب سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے ضلع کلکٹرس کو دوبارہ توجہ دلائی کہ وہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز تک اراضی کی نشاندہی کا کام مکمل کرلیں۔ چیف منسٹر نے فوری طور پر کرایہ کی عمارتوں میں اقامتی اسکولس کے قیام کی ہدایت دی ہے اور ہر اسکول میں طلباء کی تعداد 120 رہے گی۔ پانچویں، چھٹی اور ساتویں جماعت سے ان مدارس کا آغاز ہوگا۔ اقامتی اسکولس چلانے اور ان کی نگرانی کیلئے ایس سی، ایس ٹی اسکولس کی طرز پر علحدہ سوسائٹی قائم کی جائے گی جس کا رجسٹریشن ابھی باقی ہے۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ اس سوسائٹی کے صدرنشین ہوں گے۔ حکومت نے اقلیتی آبادی والے علاقوں میں ہمہ جہتی ترقی سے متعلق مرکزی حکومت کی ایم ایس ڈی پی اسکیم پر عمل آوری کیلئے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت مرکزی حکومت اقلیتی آبادی والے علاقوں میں اسکولس کے قیام، بنیادی سہولتوںکی فراہمی حتیٰ کہ سڑکوں کی تعمیر  کے لئے فنڈز جاری کرتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں تلنگانہ اس اسکیم پر عمل آوری میں سُست رفتاری دیکھی گئی تاہم چیف منسٹر نے جاریہ سال سے اسکیم پر خصوصی توجہ کی ہدایت دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT