Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ کے غلط اقدامات کو بے نقاب کرنے آندھراپردیش کی دھمکی

حکومت تلنگانہ کے غلط اقدامات کو بے نقاب کرنے آندھراپردیش کی دھمکی

حیدرآباد 28 اکٹوبر (پی ٹی آئی) حکومت آندھراپردیش نے سری سیلم ذخیرہ آب کی سطح میں مسلسل کمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج کہاکہ وہ حکومت تلنگانہ کے تمام غلط اقدامات کو بے نقاب کرے گی اور دریائے کرشنا انتظامی بورڈ کے کل منعقد ہونے والے اجلاس میں بورڈ سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اِس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے اپنی اتھاریٹی کا مؤث

حیدرآباد 28 اکٹوبر (پی ٹی آئی) حکومت آندھراپردیش نے سری سیلم ذخیرہ آب کی سطح میں مسلسل کمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج کہاکہ وہ حکومت تلنگانہ کے تمام غلط اقدامات کو بے نقاب کرے گی اور دریائے کرشنا انتظامی بورڈ کے کل منعقد ہونے والے اجلاس میں بورڈ سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اِس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے اپنی اتھاریٹی کا مؤثر استعمال کرے۔ اگر ضروری ہوتو آندھراپردیش اِس تنازعہ کی یکسوئی کے لئے مرکزی وزیر آبی وسائل اور دونوں ریاستوں کے چیف منسٹروں پر مشتمل اعلیٰ کونسل کی مداخلت کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان سری سیلم میں دریائے کرشنا کے پانی سے استفادہ کے مسئلہ پر جاری تنازعہ کا حل تلاش کرنے کیلئے بورڈ نے یہ اجلاس طلب کیا ہے کیونکہ تلنگانہ کی جانب سے لیفٹ پاور ہاؤز پر برقی کی پیداوار سے اِس ذخیرہ آب کی سطح میں تشویشناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ آندھراپردیش کے وزیر آبپاشی دیوی نینی اوما مہیشور راؤ نے اِس تنازعہ سے پیدا شدہ صورتحال پر چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کے غلط اقدامات سے پیدا شدہ یہ تشویشناک مسئلہ صرف آندھراپردیش کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ خود تلنگانہ اور بالخصوص شہر حیدرآباد کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ سری سیلم اور ناگر جنا ساگر میں فی الحال 172 ٹی ایم سی فٹ پانی دستیاب ہے جبکہ ہمیں نہ صرف ساحلی آندھراپردیش بلکہ تلنگانہ اور حیدرآباد میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضرورت کے لئے 78 ٹی ایم سی فٹ پانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم دستیاب پانی کا بہتر استعمال نہ کریں تو آئندہ موسم گرما تک ہمیں انتہائی سنگین بحران سے گزرنا پڑے گا۔ اوما مہیشور راؤ نے کہاکہ صرف شہر حیدرآباد کو پینے کے پانی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے 11.95 ٹی ایم سی فٹ پانی کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے حکومت تلنگانہ کے ذمہ داروں سے سوال کیاکہ ’’کیا آپ مہاراشٹرا یا کرناٹک سے کم سے کم ایک ٹی ایم سی فٹ پانی بھی لاسکتے ہیں؟ یہ بات ہے جو حکومت تلنگانہ کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT