Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / حکومت تمام محاذوں پر ناکام ‘اس کے دعوے جھوٹ کا پلندہ

حکومت تمام محاذوں پر ناکام ‘اس کے دعوے جھوٹ کا پلندہ

تعلیمی ادارے ہندوتوا کی درسگاہوں میں تبدیل ‘ گاؤرکھشا کے نام پر دہشت گردی ‘ موسم کی طرح عوامی رائے تبدیل

متالی سرن
نئی دہلی ۔8اکٹوبر ۔ دہلی کا موسم آخر کار تبدیل ہورہا ہے ‘ اُسی طرح جیسے کہ ہندوستانی عوام کی رائے تبدیل ہوتی ہے ۔ گرمی اور چمک دمک جاچکی ہے ۔ تین سال چھ ماہ مودی حکومت کو برسراقتدار آئے ہوچکے ہیں ۔ جو لوگ بی جے پی کو کبھی پسند نہیں کرتے تھے وہ برہم ہیں اور کھل کر فیصلہ کن انداز میں بات کررہے ہیں کہ مودی حکومت کی چمک دمک صرف تین سال چھ ماہ میں ختم ہوگئی ہے ۔ جو لوگ اسے ایک موقع دینا چاہتے تھے ‘ ان کا صبر اور برداشت ختم ہوچکی ہے اور وہ کھل کر پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ تاجر دکانوں کے مالکین بی جے پی کے اہم حامی تھے ‘ وہ عملی اعتبار سے مایوسی کے عالم میں منتشر ہوچکے ہیں اور کھل کر سماجی ذرائع ابلاغ پر منفی تبصرے کررہے ہیں۔ ان میں سے بعض نے خاموشی اختیار کرلی ہے ۔ دسہرہ پر وزیراعظم مودی نے ایک مکمل قابل دید تشبیہہ استعمال کی کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ۔ انہوں نے راون کے پتلے کو نذرآتش کرنے کیلئے تیر چلانے کے وقت اپنی بھنویں اٹھادیں ۔

وہ دوبار ناکام رہے ‘ اس کے بعد کانپتے ہوئے قدموں کے ساتھ تیر چلایا ۔ یہ اُن کا ایک فلاپ شو تھا اور وہ بری طرح پریشان ہوگئے تھے ‘ ان کے کارٹون اتارے جارہے تھے ۔ بی جے پی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چاروں خانے چت ہوچکا ہے ۔ عوام نے اُسے جو زبردست اختیار دیا تھا وہ ناکام ہوچکا ہے ۔ رائے عامہ مایوس ہوچکی ہے اور فیصلہ کرچکی ہے کہ آئندہ یو پی اے کو اقتدار عطا کرے گی ‘ اس نے فیصلہ کن انداز میں یہ بات کہہ دی ہے ۔ حکومت کے کارنامے متنازعہ بن چکے ہیں اور اس کا ٹھوس ثبوت بھی حاصل ہوچکاہے ۔ حکومت کے کارنامے غلطیوں کا پلندہ ثابت ہورہے ہیں ۔کیا بی جے پی اس کی ذمہ داری قبول کرے گی ‘ کسی نے بھی حکومت کو مجبور نہیں کیا تھا کہ ہر شخص کے بینک کھاتہ میں 15لاکھ روپئے جمع کرانے کا اعلان کرے اور اس کے بعد اس سے قاصر رہے ‘ کسی نے بھی مودی کو انتہائی قیمتی لباس پہننے پر مجبور نہیں کیا تھا جس پر خود ان کا نام ایک مونوگرام کی طرح موجود ہو ‘ کسی نے بھی بی جے پی کو مجبور نہیںکیا تھا کہ وہ فوٹو شاپ کے ذریعہ فرضی تصویریں تیار کرے اور ان کی کامیابی کا فرضی چہرہ اپنے سرباندھ لیں ‘ کسی نے بھی مودی کے سرپر بندوق نہیں رکھی تھی کہ وہ ماقبل از تاریخ اخلاقیات ریاستوں کو سکھائیں اور بعدازاں یونیورسٹیوں کے فرضی سرٹیفیکٹس پیش کریں ‘ کسی نے بھی مسلمانوں کو اور دلتوں کو زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا تھا۔بیف کو جو ایک بڑا روزگار کا ذریعہ تھا تباہ کرنے کیلئے بی جے پی کو مجبور نہیںک یا گیا تھا ۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ محمد اخلاق کے قاتل کو ترنگے جھنڈے میں لپیٹا جائے ۔ کسی نے بھی احتجاجی طلبہ پر مجرموں کے حملے کیلئے بی جے پی کو مجبور نہیں کیا تھا ۔ کسی بھی قومی ٹی وی پر پاکستان کو دھمکیاں دینے کیلئے نہیںکہا گیا تھا ‘ کسی نے بھی آدھار کارڈ ناراض شہریوں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور نہ آر بی آئی گورنر کو بلاوجہ نظرانداز کرنے کیلئے کہا تھا ۔ کسی نے بھی شہریوں کو کھانے ‘ ثقافت ‘ لباس ‘ مذہب اور جنسی عادات تبدیل کرنے کے احکام جاری نہیں کئے تھے ۔ کسی نے بھی قوم پرستی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا تھا ‘ کسی نے بھی حکومت سے یہ نہیںکہا تھا کہ توہم اور مذہب کے ہتھیار سے ہر ایک کو کچل دیا جائے ‘ کسی نے بھی حکومت سے نہیں کہا تھا کہ تعلیمی اداروں کوجہاں طلبہ سیکھنے کیلئے جاتے ہیں ہندو توا کے اسکولوں میں تبدیل کیا جائے ‘ کسی نے بھی ایک قوم پر ڈیجیٹل لین دین مسلط کرنے کیلئے نہیں کہا تھا ‘ کسی نے بھی بچوں کو کتابیں یاد کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا جو جھوٹ کا پلندہ ہو ۔ ہم سب اتفاق کریں گے کہ موسم تبدیل ہورہا ہے ‘ یہ سب قصور ماحولیات کا ہے کہ ہم عوام کو بیوقوف بنانے میں ناکام رہے لیکن کچھ وقت کیلئے چند لوگوں کو بیوقوف تو بنایا جاسکتاہے لیکن ہر ایک کو ہمیشہ کیلئے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT