Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / حکومت تمام معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کیلئے تیار:نقوی

حکومت تمام معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کیلئے تیار:نقوی

نئی دہلی، 17جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ پارلیمنٹ کے چہارشنبہ سے شروع ہو رہے مانسون سیشن میں حکومت پیٹ پیٹ کر ہو رہے قتل سمیت تمام معاملات پر مباحثہ کے لئے تیار ہے ۔مسٹر نقوی نے یہاں ایک پروگرام سے الگ پریس کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا”موسم بہت خوشگوار ہے اور مجھے لگتا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر کابھی ماحول اور موسم خوشگوار ہونا چاہیے۔حکومت تمام موضوعات پر مباحثہ کے لئے تیار ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ مانسون سیشن میں اپوزیشن سے وہ غلطی نہیں ہوگی جو بجٹ سیشن میں ہوئی تھی”۔بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر کئے گئے قتل کو ایک بار پھر اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے ایشو بنانے کے سلسلے میں پوچھے جانے پر مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت کسی بھی طرح کے جرائم کے ساتھ نہیں ہے ۔اس طرح کے جرائم پر فرقہ پرستانہ جامہ پہنانے کی کوشش ہوتی ہے جس سے مجرموں کو مدد اور تحفظ ملتا ہے ۔انہوں نے کہا ”ہمارا ماننا ہے کہ جو مجرم ہیں وہ مجرم ہیں اور ان کے خلاف قانونی دفعات کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ہم تمام مسائل پر بحث اور جواب دینے کے لئے تیار ہیں”۔راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیرمین کے انتخابات میں ووٹنگ کے بہانے حکومت کو گھیرنے کی کوشش کے بارے میں مسٹر نقوی نے کہا کہ مثالی حالات تو یہی ہوتا ہے کہ عام رائے بنے ، لیکن اب ہمیں انتظار کرنا چاہئے ۔

دستکاروں کی وراثت بچانے کے
اقدامات کر رہی حکومت:نقوی
اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے دستکارطبقے کے نوجوانوں کو خود روزگار کے لئے ‘مدرا یوجنا’کا فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیتے ہوئے آج کہا کہ حکومت دستکاروں اور دستکاروں کی وراثت بچانے کے لئے مختلف سطحوں پر غور خوض کر رہی ہے ۔مسٹر نقوی نے قومی اقلیتی ترقی اور فنانس کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی ) کی طرف یہاں فنانس مینجمنٹ پر منعقد ورکشاپ کے افتتاح کے موقع پر یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ دستکار اور کاریگر ملک کے اہم ورثہ ہیں جو کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن، روزگار کا فقدان اور اس روزگار میں منافع نہ رہنے کی وجہ سے اب ان خاندانوں کے بچے اپنا پشتینی پیشہ چھوڑ کردوسرے کام کی طرف بھاگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا “حکومت کوشش کر رہی ہے کہ اس وراثت کو کس طرح مضبوط کر سکیں، ان کے لئے کس طرح روزگار مہیا کرا سکیں. مالی مدد اور تربیت کے ذریعے حکومت ان کے ورثے کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے ”۔مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت نے اپنا روزگار شروع کرنے والے نوجوانوں کے لئے ‘مدرا یوجنا ‘ شروع کی ہے ۔ اس کے تحت 20 سے 30 لاکھ روپے کا قرض دیا جاتا ہے جو اپنا روزگار کے لئے کافی ہے ۔ اقلیتی طبقے کے نوجوان بھی اس کا فائدہ لے سکتے ہیں۔انہوں نے اس کے نوجوانوں کو سستا قرض فراہم کرنے کے لئے این ایم ڈی ایف سی کو ان کے پاس جا کر قرض دینے کا بھی مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT