Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / حکومت جامعات میں قوم مخالف سرگرمیوں پر قابو پائے

حکومت جامعات میں قوم مخالف سرگرمیوں پر قابو پائے

ملک کی تقسیم کے نعروں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ آر ایس ایس کی پرتی ندھی سبھا کے سہ روزہ اجلاس کا آغاز
ناگور ( راجستھان ) 11 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) آر ایس ایس نے آج حکومت سے کہا کہ وہ یونیورسٹیز میں قوم مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے والے تخریب کار عناصر پر قابو پائے ۔ سنگھ نے سوال کیا کہ جے این یو میں مکل کی تقسیم پر زور دینے والے نعروں کو کس طرح برداشت کیا گیا ۔ آر ایس ایس کے اعلی قائدین کا ایک سہ روزہ اجلاس آج شروع ہوا ۔ اجلاس میں سنگھ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس طرح کی قوم مخالف اور سماج مخالف طاقتوں سے سختی سے نمٹیں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ ثقافتی ماحول اور تقدس کو برقرار رکھا جائیگا اور اس بات کی اجازت نہیں دی جائیگی کہ ہمارے تعلیمی ادارے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن جائیں۔ جے این یو تنازعہ ‘ حیدرآباد یونیورسٹی میں دلت طالب علم کی خود کشی جیسے واقعات سے مودی حکومت کے نمٹنے کے طریقہ کار پر ہورہی تنقیدوں کے پس منظر میں آر ایس ایس کا یہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے ۔

مودی حکومت پر الزام ہے کہ وہ تعلیم کو زعفرانی رنگ دے رہی ہے اور ملک میں بی جے پی کیلئے اہمیت کے حامل اسمبلی انتخابات سے قبل عدم رواداری پر مباحث بھی شروع ہوگئے ہیں۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ اکھل بھارتیہ پرتی ندھی سبھا کے افتتاحی اجلاس میں شریک تھے جس میں سنگھ کے اعلی قائدین بشمول سربراہ موہن بھاگوت بھی موجود تھے ۔ اجلاس میں پیش کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں آر ایس ایس نے پٹھان کوٹ میں ہوئے حملہ کی بھی مذمت کی اور سکیوریٹی فورسیس کی کارکردگی پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ سنگھ نے کہا ہے کہ اس سارے معاملہ کا جائزہ لینا چاہئے اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد و پاکستان سے پھوٹنے والی دہشت گردی پر قابو پانے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ سنگھ نے ہریانہ اور گجرات میں تحفظات کیلئے پرتشدد احتجاج کو نہ صرف انتظامی مشینری کیلئے چیلنج قرار دیا بلکہ کہا کہ اس سے سماجی ہم آہنگی و بھروسہ کیلئے بھی خطرہ ہے ۔

مالڈا میں ایک ہجوم کی جانب سے پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کئے جانے کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنگھ نے خوف کا ماحول پیدا کئے جانے کی کوششوں کی مذمت کی ۔ کہا گیا ہ کہ سیاسی جماعتوں کو خوشامد کی پالیسی ترک کرنی چاہئے اور اس طرح کے واقعات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ جامعات میں قوم مخآلف سرگرمیاں محب وطن شہریوں کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔ یہ سوال کیا گیا کہ اظہار خیال کی آزادی کے نام پر کس طرح سے ملک کی تقسیم کے نعرے لگائے جاسکتے ہیں۔ اس صورتحال کو کس طرح برداشت کیا جا رہا ہے اور جس شخص نے ملک کی پارلیمنٹ کو دھماکہ سے اڑادینے کی دھمکی دی تھی اسے کسطرح سے شہید قرار دیا جاسکتا ہے ۔ سنگھ نے کہا کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں انہیں ملک کے دستور میں کوئی یقین نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT