Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت سے خانگی ٹیوشن کی برخاستگی کے باوجود کئی مقامات پر کلاسیس

حکومت سے خانگی ٹیوشن کی برخاستگی کے باوجود کئی مقامات پر کلاسیس

طلبہ پر اضافی بوجھ ، محکمہ تعلیمات کی چشم پوشی ، شکایت پر کارروائی کے لیے تیار
حیدرآباد۔7فروری(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے ریاست میں خانگی ٹیوشن پڑھانے والے اداروں کو غیر مجاز قرار دیئے جانے کے باوجود شہر کے کئی مقامات پر انٹر اور ایس ایس سی طلبہ کے لئے اجتماعی ٹیوشن کلاسس کا اہتمام کیا جا رہا ہے اورلیکن محکمہ تعلیم کی جانب سے اس مسئلہ پر اختیار کردہ خاموشی کے باعث بعض اداروں کی جانب سے اشتہارات کے ذریعہ طلبہ کو داخلے فراہم کئے جانے لگے ہیں۔ حکومت نے اسکولو ںکی کارکردگی کو بہتر بنانے کے علاوہ طلبہ پر اضافی بوجھ عائدنہ ہونے دینے کے لئے اسٹڈی سرکلس اور ٹیوشن نظام کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور اسکولوں میں خصوصی کلاسس کے نام پر اضافی کلاسس رکھنے سے بھی منع کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اسکولوں اور خانگی ٹیوشن اداروں و انسٹیٹیوشنس کے ذریعہ طلبہ کو بہتر نشانات کے حصول اور معیاری تعلیم کے نام پر راغب کیا جا رہا ہے اور کئی طلبہ جو اسطرح کی سہولتوں سے استفادہ کرنے کے اہل نہیں ہوتے وہ مسابقت سے محروم ہونے لگے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ اس پابندی کا مقصد اسکولی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے لیکن محکمہ تعلیم کی جانب سے ان اداروں کے متعلق اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کے احکامات کا محکمہ تعلیم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست میں کئی سرکردہ تعلیمی اداروں کی جانب سے خفیہ طور پر ادارہ کی عمارت کے علاوہ دیگر مقامات پر خصوصی کلاسس چلائی جا رہی ہیں اور بعض تعلیمی اداروں کی جانب سے خانگی ٹیوشن اور انسٹیٹیوٹ میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے طلبہ کو پابندبنایا جا رہا ہے ۔محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر عمل آوری کی ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود بعض علاقو ںمیں یہ سرگرمیاں انجام دیئے جانے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ عہدیداروں نے بتایاکہ احکامات کی اجرائی کے ساتھ ہی محکمہ تعلیم نے شہر کے بعض علاقوں میں خانگی انسٹیٹیوٹ جو چلائے جا رہے تھے انہیں مہربند بھی کیا اور ان کے خلاف کاروائی بھی کی گئی لیکن اب جبکہ سالانہ امتحانات کا دور قریب آرہا ہے تو دوبارہ اس بات کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ شہرکے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع میں اس طرح کی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہے اور طلبہ کی بڑی تعداد اس سہولت سے استفادہ بھی کر رہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع میں چلائے جانے والے ان خانگی ٹیوشن اداروں کے متعلق محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ شکایت کی وصولی کی صور ت میں وہ کاروائی کیلئے تیار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT