Tuesday , August 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت سے شرعی احکام کی خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی

حکومت سے شرعی احکام کی خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی

بغیر محرم کے حج بیت اللہ روانہ کرنے 1300 خواتین کا بغیر قرعہ انتخاب
حیدرآباد۔31ڈسمبر (سیاست نیوز) حج بیت اللہ کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنے کی خواہشمند 1300 خواتین کو بغیر کسی قرعہ اندازی کے لئے منتخب کرتے ہوئے حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ حج کیلئے روانہ کیا جائے گا۔حکومت ہند شرعی احکام کی خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی پر اتر آئی ہے اور اب خلاف شرع عمل کرنے والوں کو مراعات کی پیش کش کی جانے لگی ہے بلکہ بالواسطہ مراعات دیئے جانے لگے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت ہند نے مسلمانوں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے لیکن اس کا مؤثر جواب کسی بھی گوشہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے جاریہ سال نئی حج پالیسی کے ذریعہ بغیر محرم کے خواتین کو حج بیت اللہ کیلئے روانہ کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا اور اس پر کچھ اخباری بیانات کے بعد خاموشی اختیار کرلی گئی لیکن کسی نے کوئی مؤثر نمائندگی نہیں کی اور نہ ہی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ یہ عمل شریعت کے مطابق نہیں ہے اور حج بیت اللہ کے لئے خواتین کا محرم ہونا لازمی ہے لیکن حکومت کی اس پالیسی کے باوجود ہندستان بھر میں صرف ایسی 1300 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو خواتین بغیر محرم کیلئے حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہونے کی خواہشمند ہیںجن کا تذکرہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ’’من کی بات‘‘ کے دوران کرتے ہوئے کہا کہ 70سال میں پہلی مرتبہ ان کی حکومت نے خواتین کو تنہاء حج بیت اللہ پر روانہ کرنے کے اقدامات کئے ہیں۔ نریندر مودی کے یہ کہنے کے ساتھ ہی وزیر مرکزی وزارت اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے فوری طور پر ٹوئیٹر کے ذریعہ اس بات کا اعلان کیا کہ بغیرمحرم حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہونے کیلئے درخواست داخل کرنے والی 1300 خواتین کو بغیر کسی قرعہ اندازی کے منتخب کرلیا جائے گا۔ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے کئے جانے والے اس اعلان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ہند نے مخالف شریعت عمل کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کو مراعات فراہم کرنے لگی ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا اور مرکزی وزارت اقلیتی امور نے مسلسل تین مرتبہ سے درخواست داخل کرنے والے خواہشمندوں کو محفوظ زمرہ میں شمار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ تین مرتبہ مسلسل قرعہ اندازی میں نہ آنے کے سبب منتخب کئے جاتے تھے لیکن اب متبدلہ پالیسی کے مطابق انہیں قرعہ میں انتخاب تک انتظار کرنا پڑے گا لیکن وزارت اقلیتی امور کے اس فیصلہ سے کہ بغیر محرم کے حج بیت اللہ پر جانے کی خواہشمند خواتین کو بغیر قرعہ کے منتخب کیا جائے گا یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت غیر شرعی عمل کے مرتکبین کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔گذشتہ دنوں کے دوران طلاق ثلاثہ مسئلہ پر حکومت کی جانب سے لوک سبھا میں بل پاس کئے جانے کے بعد اب بغیر محر م کے حج بیت اللہ کا قصد کرنے والوں کو دی جانے والی اس رعایت سے واضح ہوگیا ہے کہ حکومت نے جو پالیسی اختیار کی ہوئی ہے وہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو نشانہ بنانے والی ہے۔

TOPPOPULARRECENT