Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت ملک کو کنگال بنانے کوشاں ، پیشوا راج کا خاتمہ ضروری

حکومت ملک کو کنگال بنانے کوشاں ، پیشوا راج کا خاتمہ ضروری

200 سال قبل شیوا لنکر کو شکست دینے والے دلت مسلم اتحاد کو پھر ایک بار کمربستہ ہونے کی ضرورت ، مسٹر ویرا ساتھی دار سے بات چیت
حیدرآباد۔16جنوری(سیاست نیوز) ملک میں 200برس گذر جانے کے بعد بھی ’’پیشوا راج ‘‘ جاری ہے لیکن پیشوا راج کی شکل بدل چکی ہے اس پیشوا راج کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی اور اسی جدوجہد کے لئے مہاراشٹراور ملک کی مختلف تنظیموں کی جانب سے بھیما کورے گاؤں واقعہ کے 200 سال کے موقع پر ریالی منظم کی گئی تھی جس میں دلت ‘ مسلم‘ قبائیلی‘ عیسائی اور ترقی پسند برہمن قائدین بھی شامل تھے ۔مسٹر ویرا ساتھی دار نے ایک خصوصی ملاقات کے دوران بتایا کہ200 سال قبل جب ملک کے دلت اور پسماندہ طبقات کو برہمن اور اعلی ذات کی جانب سے کچلا جاتا تھا اس وقت انہوں نے آواز اٹھائی تھی اور 30ہزار پر مشتمل پیشوا باجی راؤ کی فوج کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی تھی اسی ’’شوریہ دیوس‘‘ کے سلسلہ میں گذشتہ ماہ ریالی کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا۔ ساتھی دار نے بتایا کہ ملک ہی نہیں بلکہ دنیا نے سینکڑوں برس بعد بھیما کورے گاؤں کا نام سنا ہے کیونکہ اس واقعہ کو فراموش کرنے کی متعدد کوششیں کی جاچکی ہیں کیونکہ یہ واقعہ 30000 کے پیشوا لشکر کو شکست کی یاد دلاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں موجودہ پیشوا راج نہ صرف سرمایا دارانہ نظام کے ساتھ کام کررہاہے بلکہ ان یہ پیشوا راج ہندستان کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے ملک کے عوام کو غلام بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ویرا ساتھی دار نے کہا کہ ملک کے موجودہ نظام حکمرانی سے یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ملک میں پسماندہ طبقات‘ قبائیلی اور مسلمان محفوظ نہیں ہیں اور ان میں احساس عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان میں صرف اخلاق‘ جنید کا قتل نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ صرف نجیب احمد کو غائب کیا گیا ہے بلکہ پیشوا راج کے اس نظریہ نے گوری لنکیش‘ دابولکر اور پنسارے کو بھی ہلاک کیا ہے جو کہ اس بات کی کوشش ہے کہ حقائق پر سے پردہ چاک کرنے والوں میں خوف پیدا کیا جائے۔اسی طرح موجودہ پیشوا راج ملک کی جامعات میں تعلیم حاصل کررہے دلت نوجوانوں کو تعلیم کے حصول سے روکنے کیلئے انہیں تحقیق کے لئے بجٹ جاری نہیں کر رہاہے جس کے سبب روہت ویمولہ جیسے قابل طلبہ خودکشی کر رہے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ پیشوا راج کا بنیادی مقصد غریب کو ترقی سے روکنا اور انہیں مستحکم ہونے نہیں دینا ہے۔ ساتھی دار نے کہا کہ سرمایہ دار ‘ دلت اور قبائیلی عوام کی اراضی حکومت کے تعاون سے حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں اور ان کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ملک میں پر تشدد واقعات کے ذریعہ حالات کو بگاڑا جا رہا ہے تاکہ فرقہ پرستی کے زہر کو پھیلایا جاسکے۔ امریکی و اسرائیلی سامراجیت کے متعلق انہوں نے کہا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد برہمن واد کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف سرگرم عمل ہے کیونکہ برہمن واد کی حقیقت عوام کے درمیان آجانے کی صور ت میں انہیں اپنے مفادات کی تکمیل میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گااسی لئے وہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ساتھی دار نے بتایاکہ ہندستان کا موجودہ پیشوا راج ملک کی ہر شئے اسرائیل وامریکہ کو فروخت کر تے ہوئے ملک کو کنگا ل کرنے کی کوشش میں ہے اسی لئے اسے روکنا ضروری ہے اور اس پیشوا راج کو روکنے کیلئے 200 سال پہلے پیشوا راج کے خلاف چلائی گئی مہم سے تحریک حاصل کرنی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ جو ریالیاں منظم کی گئی تھیں ان کا مقصد ہی یہ تھا کہ عوام میں اس بات کو یہ یاد دلایا جائے کہ بھیما کورے گاؤں کا سبق کیا ہے اور اس سبق کے مطابق ہی نعرہ لگاتے ہوئے یہ ریالی نکالی گئی تھی۔ ساتھی دار نے بتایاکہ پیشوا راج کے خاتمہ میں صرف مہار نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ مسلمان‘ مراٹھا ‘ عیسائی اور دیگرطبقات سے تعلقات رکھنے والے بھی شامل تھے لیکن اب تک اس حقیقت کو آشکار نہیں کیا گیا جو کہ دلت سماج کی ایک تاریخی بھول رہی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آر ایس ایس نے یہ تاثر دیا ہے کہ مراٹھا راج کے خاتمہ کو مہاروں نے انجام دیا ہے لیکن پیشوا راج کے خاتمہ میں مراٹھا‘ مسلم ‘ عیسائی اور دلت سب ساتھ مل کر لڑے اس بات کو چھپانے کے سبب نفرتوں کی دیوار کھڑی ہوئی ہے اور آج کا پیشوائی نظام اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ انہو ںنے بتایاکہ ملک میں اب آدی واسی (قبائیلی ) اپنے جنگل‘ اقلیت اپنی جان ‘ دلت اپنے حق بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ساتھی دار نے بتایا کہ برہمن واد کی نظر میں چھترپتی سمبھا جی مہاراج سب سے بڑے دشمن تھے کیونکہ سمبھا جی مہاراج کو اس بات کا اندازہ تھا کہ پیشوا راج ان کے ساتھ کس طرح کی سازشیں کرتے ہوئے انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوںنے آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو آج کے دور کے پیشوائی راج کا نظریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نظریہ سے مقابلہ کیلئے سب کو متحد ہونے اوران حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے کیونکہ اگر اب خاموشی اختیار کرتے ہوئے پسماندہ طبقات‘ دلت‘ مسلمان‘ قبائیلی تماش بین رہتے ہیں تو حالات مزید ابتر ہوتے چلے جائیں گے اور قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT