حکومت مہاراشٹرا کو زوال پذیر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں

علی باغ(مہاراشٹرا)۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں وسط مدتی انتخابات کے بارے میں اپنے تبصرے کے ذریعہ ہلچل مچادینے کے ایک دن بعد صدر این سی پی شرد پوار نے آج کہا کہ یہ ان کا ارادہ نہیں ہے کہ دیویندر فرنویس زیرقیادت بی جے پی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت کو زوال پذیر کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ

علی باغ(مہاراشٹرا)۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں وسط مدتی انتخابات کے بارے میں اپنے تبصرے کے ذریعہ ہلچل مچادینے کے ایک دن بعد صدر این سی پی شرد پوار نے آج کہا کہ یہ ان کا ارادہ نہیں ہے کہ دیویندر فرنویس زیرقیادت بی جے پی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت کو زوال پذیر کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ سینئر این سی پی قائدین کی دو روزہ مخصوص چوٹی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ اس کانفرنس کا آغاز اس ساحلی قصبہ میں کل ہوا تھا۔ شرد پوار نے کہا کہ وہ کوئی پہلے سے مختلف بات نہیں کہہ رہے ہیں، ان کو حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، لیکن اگر مہاراشٹرا کے مفادات کا تحفظ نہ کیا جائے تو کوئی بھی پارٹی اپنا موقف اختیار کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم حکومت کا تختہ اُلٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاستی حکومت پر زور دے سکتے ہیں کہ اگر وہ درست فیصلے نہیں کرے گی یا قابل تسلیم قانون سازی نہیں کرے گی تو ہم بھی اس کا ساتھ نہیں دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن کل میری تقریر کا جو مطلب اخذ کیا گیا وہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ ہمیں اپوزیشن میں بیٹھنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ ہم کسی بھی مسئلہ کو عوام کے مفاد میں سڑکوں پر لانے کیلئے تیار ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ نریندر مودی کے انداز کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ ہم مصنوعات کے بارے میں نہیں جانتے لیکن ان کی تشہیر کا کام بہترین ہے۔ وزیراعظم کے امریکہ اور آسٹریلیا کے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ مودی کہہ چکے ہیں کہ جن آدھار اسکیم شروع کرچکے ہیں لیکن حق معلومات قانون کے تحت سوال کرنے پر انکشاف ہوا کہ اس اسکیم کے تحت اکاؤنٹس کے 74 فیصد میں صفر رقم جمع ہے، تاہم ہم اس کے بارے میں بہت کچھ سنتے آرہے ہیں ۔ ہم اس بات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ چھوٹی سی چھوٹی چیز کی تشہیر کے لحاظ سے کوئی بھی مودی کو شکست نہیں دے سکتا۔ بارہ متی انتخابی جلسہ میں مودی نے عوام سے خواہش کی تھی کہ (پوار کی) ’’غلامی‘‘ سے نجات حاصل کی جائے لیکن ہماری کامیابی کا فرق تاس گاؤں میں اضافہ ہوکر 90 ہزار ہوگیا۔ یہیں پر مودی نے انتخابی جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔ آر آر پاٹل کو معمول کے مطابق 3 تا 4 ہزار کی سبقت حاصل ہونے کے بجائے 20 ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل ہوئی۔ ہمیں اعتراف کرنا چاہئے کہ مودی نے ذرائع ابلاغ کا موثر استعمال کیا۔ یہ سماجی میڈیا کے سلسلے میں بھی بالکل درست ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مہینوں میں مہاراشٹرا میں خشک سالی کی وجہ سے صورتِ حال ابتر ہوجائے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ رکنیت سازی مہم کے دوران سنجیدگی سے سماج کے تمام طبقات کو ساتھ لینے کی کوشش کریں۔ دو روزہ خطاب کے دوران انہوں نے انتخابی کارکردگی پر زور دیا اور سماجی ذرائع ابلاغ کے اثر اور کارکردگی پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ وقت بدل چکا ہے، عوام فوری نتائج چاہتے ہیں، عوام کو اپنے مسائل کا فوری حل چاہئے۔ ہمیں نیشکر کے کاشت کاروں کو ان کی پیداوار کا معاوضہ دلوانے کو یقینی بنانا چاہئے۔ پوار نے کہا کہ ہم برسراقتدار نہیں ہیں لیکن عوام کے مسائل کو موثر انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT