Tuesday , June 19 2018
Home / دنیا / حکومت نائجیریا کی جانب سے بوکوحرام کی شرائط مسترد

حکومت نائجیریا کی جانب سے بوکوحرام کی شرائط مسترد

مغویہ لڑکیوں کے بدلے عسکریت پسندوں کی رہائی سے حکومت کا انکار

مغویہ لڑکیوں کے بدلے عسکریت پسندوں کی رہائی سے حکومت کا انکار

ابوجا ۔ 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نائجیریا میں آج بوکوحرام کے لیڈر ابوبکر شیخاو کی جانب سے 200 مغویہ لڑکیوں کی رہائی کے بدلے اسلامی انتہاء پسندوں کو رہا کرنے کی شرط کو مسترد کردیا۔ اس سوال پر کہ آیا حکومت نے مغویہ لڑکیوں کے بدلے تمام عسکریت پسند قیدیوں کو رہا کرنے کی شرط مسترد کردی گئی ہے۔ وزیرداخلہ نے جواب دیا یقینا یہ شرط مسترد کی گئی ہے کیونکہ اس معاملہ میں بوکوحرام کی جانب سے کوئی شرط رکھنے کا سوال ہی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہیکہ ابوبکر شیخاو نے یہاں جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ جب تک ہمارے قیدی بھائیوں کو رہا نہیں کیا جاتا ہم ان لڑکیوں کو کبھی رہا نہیں کریں گے۔ عسکریت پسند لیڈر نے کہا کہ مغویہ لڑکیوں میں شامل چند عیسائی لڑکیوں کو مشرف بہ اسلام کیا گیا ہے۔ قبل ازیں بوکو حرام نے آج ایک نیا ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس نے لاپتہ نائجیریائی اسکولی طالبات کو پیش کیا گیا ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ یہ کمسن لڑکیاں اسلام قبول کرچکی ہیں اور انہیں اس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ تمام عسکریت پسند قیدیوں کو آزاد نہیں کیا جاتا ۔ گروپ کے قائد ابو بکر شیخاؤ نے ویڈیو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان لڑکیوں کو ویڈیو میں پیش کیا جارہا ہے وہ کسی نامعلوم دیہی مقام پر اسلامی لباس میں نماز ادا کرتی ہوئی دیکھائی گئی ہے ۔ 14 اپریل کو شمال مشرقی قصبہ چنبوک ریاست بورنو سے 276 لڑکیوں کو اغواء کرلیا گیا تھا۔جن میں سے 223 ہنوز لاپتہ ہیں ۔

آج کی ویڈیو جھلکیوں میں 130 لڑکیوں کو سیاہ اور بھورے لباس میں مکمل لمبائی کے حجاب پہنے والے درختوں کے قریب بیٹھ کر قرآن مجید کے پہلے سورہ کی تلاوت میں مصروف دکھایا گیا ہے ۔وہ اپنے ہاتھ دعاء کیلئے اٹھائے ہوئے تھے ۔ تین لڑکیوں سے انٹرویو لئے گئے دو نے کہا کہ وہ عیسائی تھیں اور اب اسلام قبول کرچکی ہیں لیکن ایک نے کہا کہ وہ مسلمان ہی تھی۔ ان میں سے بیشتر گروپ کی شکل میں بیٹھی ہوئی تھی۔ پرسکون نظر آتی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ۔ یہ پتہ نہیںچل سکا کہ ویڈیو فلم بندی کہاں کی گئی ہیںتاہم یہ بہتر معیار کی ہیں۔ بوکوحرام نائجیریا کے مسلم غالب آبادی والے شمالی علاقہ میں 2009 سے شورش پسندی ،مغربی نصاب تعلیم پڑھانے والے اسکولس پر حملوں اور سرکاری اہداف پر حملے کرنے میں ملوث ہیں۔ دریں اثناء لاپتہ اسکولی طالبات کی تلاش میں وسعت پیدا ہوگئی ہے ۔

بین الاقوامی کوششوں میں اسرائیل بھی شامل ہوگیا لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی کسی بھی بچاو کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے ۔ صدر نائجیریا گڈلک جوناتھن نے وزیر اعظم اسرائیل بنجامن نیتھن یاہو سے کل ٹیلیفون پر بات چیت کی تھی اور لڑکیوں کو تلاش کرنے میں مدد کا اسرائیلی پیشکش قبول کرلیا تھا ۔ برطانیہ ،امریکہ اور فرانس پہلے ہی ماہرین کی ٹیمیں اور آلات روانہ کرچکے ہیں تا کہ تلاش میں نائجیریا کی فوج کی مدد کی جاسکے جو دور افتادہ شمال مشرقی علاقہ میں تلاش میں مصروف ہیںکیونکہ یہی علاقہ گذشتہ پانچ سال سے مہلک شورش کا مرکز بناہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT