Sunday , December 17 2017
Home / اضلاع کی خبریں / حکومت وقف بورڈ کو جوڈیشنل اختیارات عطاکرے

حکومت وقف بورڈ کو جوڈیشنل اختیارات عطاکرے

وقف جائیدادوں کا تحفظ سارے مسلمانوں کی ذمہ داری ‘ شعور بیداری ناگزیر
کریم نگر میں منعقدہ اجلاس سے جناب ظہیرالدین علی خان ‘وشویشور راؤ ‘ عثمان الہاجری و دیگرکا خطاب
کریم نگر ۔ 15؍ اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں کو درپیش ہر وہ سنگین تر مسئلہ کی یکسوئی ممکن ہے بشرطیکہ مسلمانوں کی جانب سے متحدہ کوشش کی جائے۔ ہندوستان ساری دنیامیں سب سے بہتر ملک ہے ۔ حق کی جدوجہد آپ اپنے کو کمزور نہ سمجھیں ۔ صدق دل سے کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد ضرور کرے گا ۔ ان خیالات کا اظہار جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے آج پروٹیکشن اینڈ ڈیولپمنٹ آف وقف پروپرٹیز کمیٹی ضلع کریم نگر کے زیر اہتمام اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی ‘ اسے فائدہ مند بنانے کے لئے ریاستی سطح پر منعقدہ شعور بیداری ریاستی کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں کی وقف کردہ جائیدادوں کی آمدنی اتنی ہے کہ ہمارے ملک کی آرمی کا بجٹ جتنا ہے اس سے زائد ہے ۔ 80 ہزار کروڑ سے زائد کی جائیدادیں وقف ہیں ۔ اتنا ہونے باوجود کیا ہمیں حکومت کی مدد کی ضرورت باقی رہے گی ۔ ہمارے بزرگ و دانشوروں کی وقف کردہ جائیدادوں پر غیروں کا قبضہ ہمارے ہی قائدین کی ملی بھگت ہے ۔ یہی قائدین اوقافی جائیدادوں کی بازیابی کی کاوشوں میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں ۔ آپ متحد ہو کر کوشش کریں اپنے حق رائے دہی ووٹ کی قدر و قیمت جانیں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ و آندھراپردیش میں کئی ایک اوقافی جائیدادوں کو غیروں نے اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے ۔ یہیں ضلع کریم نگر میں وقف کی ایک بڑی جائیداد موجود ہے جس پر ایک ایم ایل اے قابض ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ یہاں پر بلا تفریق مذہب و ملت مسلم و غیر مسلم شریک ہیں جو حق کا ساتھ دینا چاہتے ہیں ۔ پروفیسر وشویشورراؤ نے کہا کہ تقریباً سبھی نے اوقاف کی جائیدادویں اور ان پر غیر مجاز قبضہ کا ذکر کیاہے اس کے ذمہ دار کون ہیں ۔ کیا اس پر آپ نے کبھی غور کیا ہے ۔ آج اقتدار پر کے سی آر کی حکومت ہے ۔ انہوںنے سنہرے تلنگانہ کی بات کی وقف بورڈ کو جوڈیشنل پاور دینے کی بات کر رہے ہیں ۔ اس کے لئے کے سی آر نے د و مرتبہ اعلان کیا لیکن آج تک اس پر عمل آوری نہیں ہوئی ۔ اوقافی جائیداد ہمارے اسلاف کی وقف کردہ ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس نے جو وعدہ کیا تھا کہ وقف بورڈ کو جوڈیشنل اختیارات دیئے جائیں گے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ بورڈ کو مکمل طور پر جوڈیشنل اختیارات دیئے جائیں ۔تاکہ مسلمانوں کو ان کا حق آسانی سے مل سکے ۔ ان کی ترقی ہوسکے ۔ عثمان بن محمد الہاجری نے پرجوش انداز میں تنظیم کارکردگی اور محترم جناب زاہد علی خان صاحب کی راہنمائی و سرپرستی میں کئے جانے والے اقدامات سے عوام کو واقف کروایا ۔ کئی ایک غیر آباد مساجد کو دوبارہ آباد کیا گیا ۔ ان سے منسلک اوقافی جائیدادوں کو حاصل کیا گیا ۔ تنویر عبدالخالق ورنگل نے کہاکہ ورنگل میں 9؍ ہزار 5 سو ایکر وقف اراضی موجود ہے جن پر غیر مجاز افراد قبضہ کئے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حیدرآباد میں ایک وقف پروٹیکشن اینڈ ڈیولپمنٹ آف وقف پروپرٹیز قائم کرتے ہوئے ریاستی سطح پر کام کیا جائے ۔ عبدالرحمن ‘ اسلام الدین مجاہد ‘ شعیب الحق طالب ‘ محمد عبدالعظیم مہاجر ‘ و دیگر نے بھی تقاریر کی ہیں ۔ محمد عبدالصمد نواب نے کریم نگر میں قائم وقف تنظیم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

 

TOPPOPULARRECENT