Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / حکومت ٹاملناڈو کا انتہائی غیرذمہ دارانہ اور غیرمعقول فیصلہ

حکومت ٹاملناڈو کا انتہائی غیرذمہ دارانہ اور غیرمعقول فیصلہ

کانگریس کی مذمت، جیہ للیتا نے جلد بازی کا مظاہرہ کیوں کیا ؟ راجیو شکلا کا استفسار، چدمبرم کا تبصرہ سے گریز

کانگریس کی مذمت، جیہ للیتا نے جلد بازی کا مظاہرہ کیوں کیا ؟ راجیو شکلا کا استفسار، چدمبرم کا تبصرہ سے گریز
نئی دہلی ۔ 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) راجیو گاندھی کے قاتلوں کو رہا کرنے چیف منسٹر ٹاملناڈو جے جیہ للیتا کے فیصلہ پر کانگریس نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی غیرذمہ دارانہ، غیرمعقول اور شہرت کیلئے کی جانے والی حرکت سے تعبیر کیا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے انا ڈی ایم کے حکومت کے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ قانونی جانچ پڑتال کا متقاضی ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ کیا کانگریس اس معاملہ میں مرکز سے عدالت سے رجوع ہونے کی خواہش کرے گی ؟ انہوں نے کہا کہ سزاء میں نرمی اور رہائی دونوں میں بنیادی طور پر کافی فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پہلے ہی اپنا یہ موقف واضح کردیا ہیکہ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو دی گئی سزائے موت کو سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے عمر قید میں تبدیل کرنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ریاست کو قیدیوں کی رہائی کا اختیار ہوتا ہے

لیکن ان اختیارات کو دستوری دائرہ کار میں رہتے ہوئے استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کبھی اس حقیقت کو فراموش نہیں کرسکتی کہ نہ صرف اس ملک کے وزیراعظم بلکہ 17 دیگر ہندوستانی شہری بشمول ٹامل باشندے دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹاملناڈو کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور فیصلوں کی کانگریس سخت مذمت کرتی ہے۔ سنگھوی نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ان مجرمین کو رہا کرنے کی بات نہیں کی اور اس نے صرف سزائے موت کو سزائے عمر قید میں تبدیل کیا ہے۔ مرکزی وزیر راجیو شکلا نے کہا کہ حکومت ٹاملناڈو کا فیصلہ انتہائی قابل مذمت ہے اور انہوں نے یہ جاننا چاہا کہ آخر عجلت پسندی کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں وزیراعظم کو نشانہ بنایا گیا۔ چنانچہ حکومت ٹاملناڈو کو چاہئے تھا کہ وہ اس معاملہ میں کسی بھی فیصلہ سے قبل ایک سے زائد مرتبہ غور کرتی۔ وزیرفینانس پی چدمبرم نے کہا ہیکہ وہ راجیو گاندھی کے قاتلوں کی سزائے موت کو سزائے عمر قید میں تبدیل کرنے کے تعلق سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ناراض ہیں

لیکن راجیو گاندھی کی موت سے جو دکھ پہنچا اس کا مداوا نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غم ہمیشہ برقرار رہے گا۔ سپریم کورٹ نے 3 مجرمین کو بے قصور قرارنہیں دیا ہے اور یہ ایک بنیادی حقیقت ہے۔ اگر وہ 20 یا 22 سال کے بعد جیل سے باہر آتے ہیں تو یہ الگ معاملہ ہوگا۔ اس تعلق سے وہ خوشی یا ناراضگی کے اظہار کے موقف میں نہیں ہے۔ اس دوران صدر ڈی ایم کے کروناندھی نے آج کہاکہ ان تین مجرمین کی رہائی کا پارٹی نے جو مطالبہ کیا ہے وہ صرف انسانی بنیادوں پر ہے اور کسی سیاسی جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ چیف منسٹر جیہ للیتا کے فیصلہ کے خلاف نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے ریمارکس کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ڈی ایم کے سزائے موت کے خلاف ہے اور اس نے ریاستی کانفرنس میں اس تعلق سے قرارداد بھی منظور کی تھی۔ یہ فیصلہ کانگریس یا کسی اور جماعت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ہم نے انسانی بنیادوں پر یہ مطالبہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT