Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / حکومت پاکستان و طالبان کے مابین آج بات چیت

حکومت پاکستان و طالبان کے مابین آج بات چیت

اسلام آباد 3 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت پاکستان اور طالبان کی مقرر کردہ کمیٹی کے مابین کل پہلی مرتبہ بات چیت کا آعاز ہوگا ۔ قیام امن کیلئے ہونے والی اس بات چیت میں کرکٹر سے سیاست داں بننے والے عمران خان نے طالبان کی مقرر کردہ کمیٹی کا حصہ ہونے سے انکار کردیا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی آج یہ واضح کیا کہ ان کی حکومت بات چیت کے

اسلام آباد 3 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت پاکستان اور طالبان کی مقرر کردہ کمیٹی کے مابین کل پہلی مرتبہ بات چیت کا آعاز ہوگا ۔ قیام امن کیلئے ہونے والی اس بات چیت میں کرکٹر سے سیاست داں بننے والے عمران خان نے طالبان کی مقرر کردہ کمیٹی کا حصہ ہونے سے انکار کردیا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی آج یہ واضح کیا کہ ان کی حکومت بات چیت کے ذریعہ دہشت گردی کے خاتمہ کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ ہونے والے بات چیت کیلئے ان کی واحد خواہش یہی ہے کہ یہ بات چیت کامیابی سے آگے بڑھے ۔ طالبان کی جانب سے نامزد کردہ کمیٹی کے نمائندوں اور حکومت کے نمائندوں کی ملاقات کل اسلام آباد میں ہوگی ۔ عہدیداروں نے کہا کہ طالبان کے قائدین بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے ۔ اس ملاقات کا فیصلہ طالبان کے کٹر پسند رہنما سمیع الحق اور بات چیت میں حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایک صحافی عرفان صدیقی کے مابین فون پر بات چیت کے دوران کیا گیا ۔ سمیع الحق تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بات چیت میں حصہ لینے کیلئے نامزد کردہ کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے تجویز کیا تھا کہ بات چیت میں اس کی نمائندگی سمیع الحق کے علاوہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان ‘ لال مسجد کے امام عبدالعزیز ‘ جماعت اسلامی کے لیڈر محمد ابراہمے اور مفتی کفایت اللہ ( جمیعتہ العلما اسلام ) کو کرنی چاہئے ۔

سمیع الحق کو بابائے طالبان بھی کہا جاتا ہے ۔ تاہم تحریک انصاف پارٹی کے اعلی پالیسی ساز ادارے نے طالبان کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے کہ عمران خان کو اس کی کمیٹی میںشامل ہونا چاہئے ۔ تحریک انصاف نے عمران خان میں اعتماد کا اظہار کرنے پر طالبان سے اظہار تشکر کیا ہے اور کہا کہ بات چیت کا عمل جلد شروع ہونا چاہئے ۔ اس دوران جمیعتہ العلما اسلام کیس ربراہ مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی حکومت کی جانب سے شروع کردہ بات چیت کا حصہ نہیں بنے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جمیعتہ سے تعلق رکھنے والے مفتی کفایت اللہ کو ‘ جنہیں طالبان نے نامزد کیا ہے ‘ پارٹی کا فیصلہ قبول کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ طالبان نے نیک نیتی کے ساتھ مولانا کفایت اللہ کو نامزد کیا ہے لیکن انہیں چاہئے کہ وہ اپنے نمائندوں کو بات چیت کا حصہ بنائیں۔ حکومت کی نامزد کردہ چار رکنی کمیٹی میں دو صحافی عرفان صدیقی اور رحیم اللہ یوسف زئی کے علاوہ سابق آئی ایس آئی عہدیدار میجر ( ریٹائرڈ ) محمد امیر اور سابق سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT