حکومت پاکستان کے استعفیٰ کے عہد کا خیرمقدم

لاہور۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف دل بڑا کر کے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں،حکومت کا دھاندلی ثابت ہونے پر استعفیٰ کا عہد خوش آئند ہے۔ عہد توڑا تو انصاف پسند قوتیں تحریک انصاف کا ساتھ دیں گی۔ منصورہ لاہور میں مختلف وفود سے گفت گو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکوم

لاہور۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف دل بڑا کر کے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں،حکومت کا دھاندلی ثابت ہونے پر استعفیٰ کا عہد خوش آئند ہے۔ عہد توڑا تو انصاف پسند قوتیں تحریک انصاف کا ساتھ دیں گی۔ منصورہ لاہور میں مختلف وفود سے گفت گو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت اور تحریک انصاف اختلافات بھلا کر مذاکرات کریں،حکومت نے دھاندلی ثابت ہونے پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف بھی حکومت پر اعتماد کرے اور دھاندلی سامنے آنے پر حکومت کیلئے کسی دل میں رحم نہیں ہوگا،ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر شفاف الیکشن کی امید بندھی ہے ، جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات سے انتخابی نظام کے سقم سامنے آ جائیں گے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے جن افسروں پر تحفظات ظاہر کیئے گئے ہیں انہیں فارغ کر دینا چاہیے ، معاملات نمٹانے میں تاخیر حکومت کیلئے نقصان دہ ہو گی۔ اسلام آباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت پاکستان نے اپوزیشن قائد عمران خان سے اپیل کی ہے کہ اپنے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے ترک کردیں

اور بات چیت کی میز پر آجائیں تاکہ بات چیت خوشگوار ماحول میں دوبارہ شروع کی جاسکے۔ احتجاجی مظاہرے اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں ہوسکتے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات پرویز راشد نے کل وفاقی مجلس عاملہ کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔ اس اجلاس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا ایک گروپ شریک تھا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ قائدین کو ایسے اقدامات کرنے چاہئے جس سے بات چیت کے احیاء کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوسکے۔ روزنامہ ’ڈان‘ کی خبر کے بموجب تحریک اِنصاف کے قائد عارف علوی نے وزیر اطلاعات کی جانب سے بات چیت کے لئے شرط پیش کرنے پر اظہار حیرت کیا اور کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے بات چیت کے لئے ماحول سازگار تھا۔ کسی بھی قاعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی گئی تھی اور نہ کوئی غیر دستوری پُرتشدد کارروائی تحریک اِنصاف کی جانب سے ہوئی تھی۔ پاکستان کے وزیر فینانس اسحاق ڈار نے جو حکومت کی مذاکرات ٹیم کی قیادت کررہے ہیں، تحریک اِنصاف کے ساتھ ستمبر میں بات چیت بند ہونے سے پہلے کہا تھا کہ بات چیت کا احیاء ان کی برطانیہ سے واپسی کے فوری بعد ممکن ہے، حالانکہ حکومت نے بات چیت کے احیاء پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن دونوں فریقین ایک دوسرے پر بات چیت کے راستہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے الزامات عائد کررہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے روزنامہ کے حوالہ سے کہا کہ توقع ہے کہ وزیراعظم ایک مشاورتی اجلاس ایک یا دو دن میں طلب کرکے بات چیت کے پروگرام کو قطعیت دیں گے۔

دریں اثناء عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ اپنے منصوبہ پر 18 دسمبر سے عمل آوری کا آغاز کردیں گے اور ملک میں مرحلہ وار انداز میں بند منائے جائیں گے۔ پارٹی نے دھمکی دی ہے کہ کل سے فیصل آباد شہر میں بند منایا جائے گا جو ملک کا صنعتی مرکز ہے اور یہاں کی پارچہ بافی کی صنعت پاکستانی صوبۂ پنجاب کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ عمران خان وسط اگسٹ سے پارلیمنٹ کے باہر اپنے حامیوں کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نواز شریف کی اقتدار سے برطرفی کا مطالبہ کررہے تھے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ سال کے عام انتخابات جس میں ان کی پارٹی ناکام رہی تھی اور نواز شریف اپنی پارٹی کے ساتھ برسراقتدار آئے تھے، دھاندلیوں کا شکار ہوچکے تھے۔ ایک اور احتجاجی قائد طاہر القادری حکومت مخالف احتجاج ترک کرکے کینیڈا واپس جاچکے ہیں جہاں کی ان کو شہریت حاصل ہے۔

TOPPOPULARRECENT