Wednesday , September 26 2018
Home / سیاسیات / حکومت پر تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کو نظرانداز کرنے کا الزام

حکومت پر تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کو نظرانداز کرنے کا الزام

نئی دہلی 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں سی پی آئی کے ایم پی اچھوتن نے تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کو نظرانداز کرنے کا حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ان شعبوں پر سرکاری خرچ کو کم کرتے ہوئے حکومت کارپوریٹ سیکٹر کو فائدہ پہونچارہی ہے۔ وقفہ صفر کے دوران مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے اچھوتن نے کہاکہ سوشیل سیکٹر کے اخراجات کو کم کرتے ہوئ

نئی دہلی 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں سی پی آئی کے ایم پی اچھوتن نے تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کو نظرانداز کرنے کا حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ان شعبوں پر سرکاری خرچ کو کم کرتے ہوئے حکومت کارپوریٹ سیکٹر کو فائدہ پہونچارہی ہے۔ وقفہ صفر کے دوران مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے اچھوتن نے کہاکہ سوشیل سیکٹر کے اخراجات کو کم کرتے ہوئے حکومت سوشیل مصارف کی لاگت پر کارپوریٹ سیکٹر کو زیادہ سے زیادہ رعایتیں دے رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ حکومت نے تعلیم، صحت اور دیہی ترقی جیسے شعبوں میں علی الترتیب 11,000 ، 7000 اور 20,000 کروڑ روپئے کے مصارف کو کم کردیا ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ جب وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اپنا بجٹ پیش کیا تھا انھوں نے کہا تھا کہ وہ خسارہ کا پتہ چلائیں گے۔ وزیر فینانس نے بتایا کہ معیشت تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ سنسیکس میں اُچھال آیا ہے لہذا بجٹ میں کسی خسارہ کا کوئی امکان نیں ہے۔ اب کیا ہوا ہے؟ حکومت پرائیوٹ سیکٹر کو کیوں ترجیح دے رہی ہے۔

اچھوتن نے الزام عائد کیاکہ تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں خانگی شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنے حکومت مجرمانہ غفلت برت رہی ہے۔ وقفہ صفر میں سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال نے سنسد گرام یوجنا کا مسئلہ اُٹھایا جس میں ارکان پارلیمنٹ کو ایک گاؤں حاصل کرکے ترقی دینا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ارکان پارلیمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے حلقہ میں ایک گاؤں کو اختیار کرلیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کیا ترقیاتی کام انجام دیئے جائیں اور اس کے لئے بجٹ کہاں سے آئے گا۔ اُنھوں نے وزیر پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی سے مطالبہ کیاکہ وہ ایوان میں اسکیم کی تفصیلات بتائیں۔ جب سے میڈیا نے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے دیہی علاقوں کو حاصل کرنے کی تشہیر شروع کی ہے۔ ان ارکان پارلیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جنھوں نے ایسا نہیں کیا ہے۔ کئی ارکان پارلیمنٹ نے اب تک گاؤں کو حاصل نہیں کیا ہے۔

حکومت کے پاس پیسہ ہے وہ کئی مواضعات کو حاصل کرکے ترقی دے رہی ہے مگر ارکان پارلیمنٹ کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔ شرومنی اکالی دل کے لیڈر بلویندر سنگھ بھنڈر اور سی پی آئی ایم کے سی پی نارائنن نے بھی اس مسئلہ کو اٹھایا۔ اس دوران وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان کی جانب سے پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے مسئلہ پر غیر اطمینان بخش جواب دینے پر اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان خاص کر کانگریس، بائیں بازو، ٹی ایم سی اور سماج وادی پارٹی کے ارکان نے احتجاجی واک آؤٹ کیا۔ راجیہ سبھا چیرمین حامد انصاری نے اس بات پر اتفاق کیاکہ نشاندہی کردہ سوالات کا راست جواب دیا جانا چاہئے۔ آدھار پر مبنی راست سبسیڈی منتقلی اسکیم پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مسٹر پردھان نے عمومی طور پر بیان دیا اور اس کو ایک سیاسی بیان میں تبدیل کردیا تو اپوزیشن بنچوں سے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT