Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت پر پروفیسر سائی بابا کو جیل میں ختم کرنے کی سازش کا الزام

حکومت پر پروفیسر سائی بابا کو جیل میں ختم کرنے کی سازش کا الزام

معذور پروفیسر کی عاجلانہ رہائی کے لیے طلبہ تنظیموں کا مطالبہ ، 10 نومبر کو احتجاجی جلسہ
حیدرآباد۔7نومبر(سیاست نیوز) جسمانی طور پر معذور پروفیسر سائی بابا کی عاجلانہ رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ کی مختلف طلبہ تنظیموں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیاکہ حکومت پروفیسر سائی بابا کو جیل کے اندر ختم کرنے کی سازش کررہی ہے ۔ اے آئی ایس ایف‘ پی ڈی ایس یو‘ ویراسم‘ ٹی وی وی ‘ ٹی وی ایس کے بشمول چیتنیا مہیلا سنگم کے قائدین نے کہاکہ جس طرح حکومت کی سرپرستی میں گوئند پنسارے‘ دابولکر ‘ کلبرگی اور گوری لنکیش کا قتل کردیاگیا ہے اس طرح پروفیسر سائی بابا کو بھی جیل میںختم کردیاجائے تاکہ قبائیلوں ‘ دلتوں اور اقلیتوں کی حمایت میںاٹھنے والے آواز کو دبادیاجاسکے۔ طلبہ تنظیموں کے قائدین کا کہنا ہے کہ ہیم مشرا اور پروفیسر سائی باباکا شمار قبائیلوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں میںہے جس کی وجہہ سے حکومت انہیں رہا ہونے کا موقع نہیںدے رہی ہے۔ قومی صدر اے آئی ایس ایف سید ولی اللہ قادری نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقومی قانون کے تحت نوے فیصد معذور شخص کو قید میں نہیںرکھا جاسکتا جبکہ جسمانی معذور ہونے کے ساتھ پروفیسر سائی بابا کو بہت سارے امراض بھی ہیں باوجود اسکے حکومت ان کی رہائی عمل میںنہیںلارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سائی باباکی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے 10نومبر کو عثمانیہ یونیورسٹی کے آئی سی ایس آر ہال میںمختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے ایک جلسہ عام منعقد کیاجارہا ہے جس میںسماجی تحریکات سے وابستہ سکیولر ذہن کے قائدین کو مدعو کیاگیا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ مہارشٹرا کے ناگپور کے علاوہ دہلی‘پنجاب ‘ کیرالا اورورنگل کے بعد اب حیدرآباد میںیہ جلسہ منعقد کیاجارہا ہے۔ انہو ںنے سکیولر ذہن کے حامل طلبہ او ردانشوروں سے اس جلسہ میںشرکت کرنے کی اپیل کی۔ پی رویندر رائو‘ کوٹہ سرینواس‘ اروناک‘ روپا کے علاوہ دیگر اس موقع پر موجودتھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT