Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / حکومت چھوڑنے پر اروند کجریوال کا اظہارمعذرت

حکومت چھوڑنے پر اروند کجریوال کا اظہارمعذرت

نئی دہلی ۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی نے نئی دہلی میں حکومت تشکیل دینے کیلئے اپنی کوششوں کو ترک کردیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے یہ اعتراف کیا کہ موجودہ حالات میں اقتدار پر واپس ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ انہوں نے 49 دن کے اندر چیف منسٹر دہلی کی حیثیت سے استعفیٰ دینے پر معذرت خواہی کی۔ ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب انہی

نئی دہلی ۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی نے نئی دہلی میں حکومت تشکیل دینے کیلئے اپنی کوششوں کو ترک کردیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے یہ اعتراف کیا کہ موجودہ حالات میں اقتدار پر واپس ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ انہوں نے 49 دن کے اندر چیف منسٹر دہلی کی حیثیت سے استعفیٰ دینے پر معذرت خواہی کی۔ ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب انہیں بی جے پی کے لیڈر نتن گڈکری کی جانب سے داخل کردہ فوجداری ہتک عزت کیس میں 10 ہزار روپئے کی ضمانت داخل کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے ان کے انکار پر انہیں اپنی تحویل میں لیا ہے۔ اروند کجریوال جن کی پارٹی کو حالیہ پارلیمانی انتخابات میں شدید دھکہ پہنچا ہے خاص کر دہلی میں جہاں 6 ماہ قبل ہی عام آدمی پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی، اب صفایا ہوگیا ہے۔ اروند کجریوال نے کہا کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے عوام سے مشاورت کئے بغیر ہی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی تازہ انتخابات کیلئے تیار ہیں۔

میں آج دہلی اور ملک کے عوام سے معافی مانگنا چاہوں گا کہ میں نے بیچ راہ میں ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ ہم نے غلطی کی ہے اس کیلئے ہم معافی چاہتے ہیں۔ اروند کجریوال نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے حکومت چھوڑی تھی یہ فیصلہ اخلاقی بنیادوں پر کیا گیا تھا۔ ہم اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتے تھے لیکن ہم نہیں سمجھ سکے کہ اس سے غلط پیام جائے گا اس کیلئے میں معافی چاہتا ہوں۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ اگرچہ کہ ان کی پارٹی نے شہر میں عوام کی رائے جاننے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا ارادہ کیا تھا کہ آیا ان کی پارٹی کو دوبارہ حکومت تشکیل دینا چاہئے یا نہیں لیکن اب اس خیال کو ترک کردیا گیا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ ہمیں پتہ چلا ہیکہ دہلی میں حکومت کی تشکیل کا امکان کم ہے۔ دہلی کانگریس کے چیف ترجمان مکیش شرما نے کہا کہ اب کانگریس عام آدمی پارٹی کی ہرگز تائید نہیں کریں گے۔

کسی بھی قیمت پر ہم عام آدمی پارٹی کو دوبارہ حکومت بنانے نہیں دیں گے۔ کل ہی اروند کجریوال نے گورنر نجیب جنگ سے ملاقات کرتے ہوئے اسمبلی کو کسی بھی وقت تحلیل نہ کرنے کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ شہر بھر میں جلسہ عام منعقد کرکے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کی پارٹی کو دوبارہ حکومت تشکیل دینا چاہئے یا نہیں۔ 14 فبروری کو عام آدمی پارٹی حکومت سے استعفیٰ دیتے ہوئے انہوں نے فوری اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی، تاکہ تازہ انتخابات کی راہ ہموار ہوسکے لیکن گورنر نے اسمبلی تحلیل نہیں کی تھی اسے معطلی کی حالت میں رکھا تھا۔ گورنر نجیب جنگ کے فیصلہ کے خلاف عام آدمی پارٹی نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست داخل کی تھی۔ بی جے پی کے سکریٹری لیڈر ہرش وردھن نے جو پارٹی کے چیف منسٹر امیدوار ہیں، عام آدمی پارٹی کے اس اقدام کو غیراخلاقی اور ناقابل قبول قرار دیا۔

تہاڑ جیل کے باہر پولیس کے ساتھ عام آدمی پارٹی ورکرس کی جھڑپ
نئی دہلی ۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) تہاڑ جیل کے باہر عام آدمی پارٹی کے حامیوں نے آج پولیس سے جھڑپ کی۔ تہاڑ جیل کے باہر جہاں پر پارٹی لیڈر اروند کجریوال کو رکھا گیا ہے، سخت ترین سیکوریٹی رکھی گئی ہے۔ امتناعی احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے حامیوں نے یہاں گھسنے کی کوشش کی تو پولیس نے روک دیا۔ یوگیندر یادو، منیش سیسوڈیا، سنجے سنگھ اور راکھی برلا جیسے سینئر قائدین کے بشمول کئی احتجاجیوں نے مقامی عدالت کے فیصلہ کے خلاف مظاہرے کئے۔ عام آدمی پارٹی کے حامیوں نے پولیس کے ساتھ اس وقت جھڑپ کی جب انہیں سیکوریٹی عملہ نے وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ کھلی ڈکٹیٹر شپ ہے۔

کجریوال اسی سیل میں رہیں گے جہاں اناہزارے تھے
نئی دہلی ۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے سابق چیف منسٹر اروند کجریوال کو تہاڑ جیل کے اسی سیل میں رکھا گیا ہے جہاں پر 2011ء میں لوک پال تحریک کے دوران گرفتاری کے بعد سماجی جہدکار اناہزارے کو رکھا گیا تھا۔ تہاڑ جیل کے ترجمان سنیل گپتا نے بتایا کہ اروند کجریوال کو جیل نمبر 4 میں تنہا رکھا گیا ہے جہاں وہ زمین پر سو رہے ہیں۔ انہیں جیل کا معمول کا کھانا فراہم کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT