Thursday , April 26 2018
Home / مضامین / حکومت کا بھرم ٹوٹ گیا قرض کو آمدنی بتایا گیا…تعلیم تجارت بن گئی

حکومت کا بھرم ٹوٹ گیا قرض کو آمدنی بتایا گیا…تعلیم تجارت بن گئی

محمد نعیم وجاہت
سلطانی جمہور کے زمانے کی خاص بات یہی ہوتی ہے کہ برسر اقتدار طبقہ اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لئے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرلے کوئی ادارہ اُن پردوں کو چاک کر ہی دیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر کنٹرول کے ذریعہ اگر ناکامی کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں عدلیہ کی جانب سے حکومت کے منہ پر مارے جانے والے طمانچے حقائق کو آشکار کرتے ہیں۔ اگر ایوان نمائندگان کو سیاسی جماعتیں اپنی تشہیر کا مرکز بناتی ہیں ایسے وقت بیوروکریسی تحفظ جمہوریت کے لئے حقائق کو پیش کرنے میں کوتاہی نہیں کرتی اس طرح اگر جمہوریت کے چار ستونوں میں کوئی بھی کمزور پڑتا ہے تو دوسرے احساس محاسبہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں اور یہی جمہوری نظام حکمرانی کی لازوال خوبصورتی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں نظام تعلیم کو خانگیانہ کی سمت جو پیشرفت ہوئی ہے وہ ریاست کے نوجوانوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کے بجائے انھیں کارپوریٹ اداروں کا غلام بنانے کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا کیوں کہ جب تجارتی اداروں سے فراغت تعلیم کے بعد نوجوان نسل مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے میدان عمل میں آئے گی تو ان میں خدمات کے جذبہ پر تجارتی ذہنیت غالب ہوگی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ میں 90 فیصد پسماندہ طبقات ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں اور 15 دن تک ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے تحفظات میں توسیع کے اختیارات ریاستوں کو دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں زبردست احتجاج کیا یہاں تک کہ 10 دن تک تحریک عدم اعتماد نوٹس کو قبول کرنے کی اجازت نہیں دی جس سے پارلیمنٹ کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔ جب خود کی باری آئی تو اپنے مطالبہ پر برقرار نہیں رہ پائے۔ تلنگانہ حکومت نے اسمبلی اور کونسل میں خانگی یونیورسٹیز کا بل منظور کیا مگر ان خانگی یونیورسٹیز میں تحفظات کو فراموش کردیا جبکہ ریاست میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور مسلمانوں کو جملہ 50 فیصد تحفظات موجود ہے۔ جس پر تعلیم، ملازمت اور مقامی اداروں کے شعبوں میں عمل آوری ہورہی ہے۔ مگر خانگی یونیورسٹیز میں اُن تحفظات پر کوئی عمل آوری نہیں ہوگی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 12 فیصد مسلم و قبائیلی تحفظات کے معاملے میں اختیارات مرکز کے تحت ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے اپنے ہی وعدے سے انحراف کررہی ہے۔ جبکہ خانگی یونیورسٹیز میں تحفظات پر عمل کرنا ریاستی حکومت کے اختیار میں تھا۔ قانون سازی میں تحفظات کو شامل کیا جاسکتا تھا مگر اس کو نظرانداز کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کے طلبہ کے ساتھ ظلم و انصافی کی ہے۔ صرف مقامی طلبہ کے لئے 25 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے اس پر بھی عمل ہونا غیر یقینی ہے۔ ایوانوں میں اصل اپوزیشن کی غیر موجودگی پر جب بی جے پی اور تلگودیشم کی جانب سے اعتراض کرتے ہوئے بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو حکومت نے ملک میں 282 خانگی یونیورسٹیز خدمات انجام دینیجن میں بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں گجرات میں 31 اور مدھیہ پردیش میں 24 خانگی یونیورسٹیز خدمات انجام اور 2016 ء میں پڑوسی آندھراپردیش کی اسمبلی میں بھی خانگی یونیورسٹیز کا بل منظور ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی اور تلگودیشم کو خاموش کرانے کی کوشش کی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر ہمیشہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اچھی اسکیمات کو اپنایا جائے اور عوامی مفادات کے لئے نقصان دہ ثابت ہونے والے فیصلوں سے اجتناب کیا جائے۔ انھوں نے نئی ریاست میں ایسے کئی فیصلے بھی کئے ہیں اور اس پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے لئے ریاست کو مثالی بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جب سرکاری ملازمین کے پنشن کے احیاء کا مسئلہ موضوع بحث بنا تو چیف منسٹر کے سی آر نے کہاکہ مرکز نے کوئی زبردستی نہیں کی تھی ریاستوں کو اختیارات سونپ دیئے تھے مگر اُس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے عجلت پسندی میں اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا جبکہ ایک دو کمیونسٹ ریاستوں نے اس اسکیم میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت تلنگانہ چاہے تو اس اسکیم سے دستبردار ہوسکتی ہے۔ اس کو اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے مرکز سے رجوع ہونا پڑے گا۔ مثال کے طور پر یو پی اے حکومت نے حصول اراضیات قانون 2013 پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعہ بنایا تھا جس کسانوں اور غریب عوام کے مفادات کا بھرپور خیال رکھا گیا تھا۔ فیصلہ قومی سطح ہونے کے باوجود تلنگانہ کے بشمول دوسری ریاستوں نے اسمبلی میں حصول اراضیات کے لئے نئی قانون سازی کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا اور مرکز نے اس کو صدرجمہوریہ ککی دستخط سے منظور کرادیا۔

ریاست میں عثمانیہ یونیورسٹی، کاکتیہ یونیورسٹی کے علاوہ دوسرے یونیورسٹیز میں کہیں ابتر صورتحال کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہے تو کہیں لکچررس کی جائیدادیں برسوں سے مخلوعہ ہیں۔ حکومت نے ایل کے جی تا پی جی تعلیم کو مفت کرنے کا اعلان کیا تھا مگر 4 سال کے دوران صرف 577 ریزیڈنشیل اسکولس قائم کئے گئے۔ اپوزیشن اور طلبہ تنظیموں کے احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے حکومت نے خانگی یونیورسٹیز کا بل منظور کردیا۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست مکیش امبانی کے علاوہ دیگر کارپوریٹ اداروں کو خانگی یونیورسٹیز قائم کرنے کے لئے تشکیل دی گئی اس کا محاسبہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ زیادہ سے زیادہ قرض حاصل کرنے والی تلنگانہ ریاست پر عالمی بینک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ خانگی یونیورسٹیز کا قیام قومی تعلیمی پالیسی کے مغائر ہے جس سے غریب اور پسماندہ طبقات کے طلبہ اعلیٰ تعلیم کی سہولت سے محروم ہوجائیں گے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم پر عمل کرنے کے لئے حکومت تلنگانہ نے 10 ہزار بینکس تک کے طلبہ کی ہی فیس دینے کا اعلان کیا ہے۔ پھر خانگی یونیورسٹیز کا بل منظور کرتے ہوئے غریب طلبہ کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ تلنگانہ کے روح رواں پروفیسر جئے شنکر کے نظریہ پر ضرب ہے۔ ریاست میں کارپوریٹ تعلیمی اداروں کے متعلق ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری کا یہ بیان کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد کسی بھی کارپوریٹ تعلیمی ادارے کو اجازت نہیں دی گئی بالکل درست ہے کیوں کہ سرکردہ تعلیمی ادارے متحدہ آندھراپردیش میں قائم ہوئے تھے اُن میں اب تشکیل تلنگانہ کے بعد کس کی حصہ داری ہے اس سے ریاست کے طلبہ، اپوزیشن، بیوروکریٹس اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہر شخص واقف ہے۔

13 دن کے تلنگانہ اسمبلی بجٹ سیشن کے دوران جہاں اپوزیشن کے نام پر 8 ارکان اسمبلی موجود تھے اور برسر اقتدار جماعت کے ارکان کے علاوہ حلیف سیاسی جماعت کے 7 ارکان موجود رہے۔ اس دوران بنیادی مسائل پر مباحث اور حکومت کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو آشکار کرنے کے لئے کوئی طاقت ایوان نمائندگان میں موجود نہیں تھی لیکن بھلا ہو آڈیٹر جنرل کا جنھوں نے بیوروکریسی کے فرض منصبی کو بہتر انداز میں نبھاتے ہوئے حکمراں ٹی آر ایس کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو اپنی رپورٹ کے ذریعہ آشکار کردیا جس سے حکومت کی جانب سے کی گئی ناکامیوں کو چھپانے کی کوکشش ایوان سے اصل اپوزیشن کو باہر رکھنے کی سازش بری طرح ناکام ہوگئی۔ اپوزیشن کے بغیر بجٹ اجلاس کی تاریخ بنانے والی ٹی آر ایس حکومت کو CAG رپورٹ پر اب ایوان میں نہیں تو عوام کے درمیان جواب دینا ہوگا۔ اس طرح خانگی یونیورسٹیز کی اجازت کے معاملے میں حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے وہ تعلیم کو تجارت میں تبدیل کرنے کے منصوبوں میں اہم پیشرفت ہے اور اس مسئلہ پر بھی حکومت سے جواب طلب کرنے کے لئے اصل اپوزیشن ایوان میں موجود نہیں تھی۔ لیکن مسئلہ کی سنگینی سے واقف نوجوان طلبہ نے ریاست بھر کی یونیورسٹیز اور اسمبلی کے روبرو احتجاج منظم کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ حکومت کی من مانی ایوانوں میں برداشت کیا جاسکتا ہے مگر عوام میں برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔

ہم یہ جانتے اور مانتے نہیں کہ تلنگانہ ایک نوخیز ریاست ہے جس کی عمر صرف 4 سال ہے۔ ریاست میں ایک بھی آبپاشی پراجکٹ نیا تعمیر نہیں کیا جارہا ہے جس کا حکومت نے خود اسمبلی میں اعلان کیا ہے مگر آبپاشی پراجکٹس کے ڈیزائن تبدیل کرنے پر ہزارہا کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ آندھراپردیش کی تقسیم کے موقع پر وراثت میں تلنگانہ میں 70 ہزار کروڑ روپئے کا قرض آیا تھا جو آندھراپردیش کی تشکیل سے علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل تک لیا گیا تھا۔ مگر گزشتہ 4 سال کے دوران 80 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ قرض حاصل کیا گیا جس پر 11 ہزار کروڑ روپئے صرف سود ادا کیا جارہا ہے۔ ریاست تلنگانہ پر فی الحال 1.40 لاکھ کروڑ روپئے قرض کا بوجھ عائد ہے۔ نئے بجٹ میں حکومت نے مزید 50 ہزار کروڑ روپئے کے قرض جاریہ سال حاصل کرنے کے اشارے دیئے ہیں۔ پھر بھی تعجب ہے چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ کو دولتمند ریاست قرار دے رہے ہیں۔ قرض کو قرض قرار دینے کے بجائے آمدنی قرار دیتے ہوئے چوری پہ چوری سینہ زوری کررہے ہیں مگر کاگ رپورٹ سے حکومت کا بھرم ٹوٹ گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کے پاس سال 2016-17 ء کے دوران 1,386 کروڑ روپئے کا فاضل مالیہ تھا تاہم اس نے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے فاضل مالیہ 6.778 کروڑ روپئے ظاہر کیا۔ کاگ رپورٹ میں اس کا انکشاف ہوا ہے۔ حکومت نے کاگ رپورٹ کو بجٹ سیشن کے ابتداء میں اسمبلی کے سامنے پیش نہیں کیا بلکہ آخری دن پیش کیا تاکہ اس پر مباحث کرنے کا کسی کو موقع نہ مل سکے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاست کو جملہ 5,392 کروڑ روپئے کے مالیاتی خسارہ کا سامنا ہے۔ ریاست میں معاشی ڈسپلن نہ ہونے ، ریت مائننگ کی وجہ سے کروڑہا روپئے کا نقصان ہونے کی تصدیق کی ہے۔ مشن کاکتیہ کے 28 فیصد کام بھی نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ حکومت کی جانب سے 27,918 تالاب صاف کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف 7901 تالاب صاف ہوئے ہیں۔ مشن کاکتیہ اسکیم کے تحت 5.6 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے قابل بنانے کا دعویٰ کیا گیا لیکن اس کا ثبوت پیش کرنے میں حکومت ناکام رہی۔ 5.17 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کے لئے فیاب سٹی اسکیم متعارف کراتے ہوئے اس کو 1075 ایکر اراضی مختص کی گئی۔ تاہم صرف 3016 افراد کو ہی روزگار فراہم کیا گیا ادئے اسکیم کے 3750 کروڑ روپئے کی گرانٹ کو ایکویٹی بتایا گیا۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے لئے حاصل کردہ 1500 روپئے کے قرض کو وصولی مالیہ بتایا گیا۔ ہاؤزنگ بورڈ کی جانب سے مکانات کی تعمیرات کے لئے ہڈکو سے حاصل کردہ 1000 کروڑ روپئے کے قرض کو بھی وصولی مالیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ کاگ رپورٹ میں طب، تعلیم، بلدیات، ایس سی، ایس ٹی سب پلان کے تحت کروڑہا روپئے مختص کئے گئے مگر مختص کردہ فنڈس مکمل خرچ نہیں کئے گئے۔ پھر بھی تلنگانہ حکومت بدعنوانیوں کا خاتمہ کردینے، ترقی اور فلاح و بہبود کے معاملے میں ملک بھر میں سرفہرست ہونے کا دعویٰ کررہی ہے مگر کاگ رپورٹ نے حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے حکومت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT