Tuesday , June 19 2018
Home / ہندوستان / حکومت کشمیر کو کتھوعہ کے متاثرہ خاندان ، وکیل کے تحفظ کی ہدایت

حکومت کشمیر کو کتھوعہ کے متاثرہ خاندان ، وکیل کے تحفظ کی ہدایت

تحقیقات کو سی بی آئی کے سپرد نہ کرنے اور مقدمہ کی دوسرے شہر کو منتقلی کیلئے مقتولہ کے والد کی درخواست سے سپریم کورٹ کااتفاق

نئی دہلی ۔16 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے حکومت جموں و کشمیر کو ہدایت کی ہے کہ کتھوعہ میں عصمت ریزی و قتل کی گئی کمسن لڑکی کے خاندان کے علاوہ ان کے وکیل اور اس مقدمہ میں ان کی مدد کرنے والوں کو مکمل سکیورٹی فراہم کریں۔ عدالت عظمیٰ مقتول لڑکی کے والد کی اس درخواست کا بھی نوٹ لیا جس میں اس مقدمہ کی سماعت کسی دوسرے مقام ترجیحاً چندی گڑھ منتقل کرنے کی استدعا کی گئی تھی اور اس ضمن میں حکومت سے جواب طلب کیا گیاہے ۔ دوران سماعت مقتول لڑکی کے والد نے جموں وکشمیر پولیس کی طرف سے تاحال کی گئی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا لیکن دوسروں کی طرف سے کئے گئے مطالبہ کے مطابق سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کی مخالفت کی۔ چیف جسٹس دیپک مصرا کے علاوہ جسٹس اے ایم کھانویلکر او ڈی وائی چندرا چوڑ پر مشتمل بنچ نے تاحال کی گئی تحقیقات پر مقتول لڑکی کے والد کے اظہار اطمینان کا نوٹ لیتے ہوئے کہاکہ ’’جیسا بھی چل رہا ہے چلنے دیجئے اس مرحلہ پر ہم اس معاملہ میں داخل ہونے ( مقدمہ کی سی بی آئی کو منتقلی ) کا ارادہ نہیں رکھتے ‘‘۔ متاثرہ خاندان کی سکیورٹی کے بارے میں ظاہر کردہ شکوک و شبہات کا بنچ نے نوٹ لیا اور ریاستی حکومت کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندان کو سادہ لباس سکیورٹی اسٹاف کے ذریعہ خاطر خواہ سکیورٹی فراہم کی جائے ۔ علاوہ ازیں اس خاندان کی وکیل دیپکا سنگھ رجاوت اور مقدمہ میں ان کی مدد کرنے والے قریبی دوست طالب حسین کو بھی سکیورٹی فراہم کی جائے ۔ بنچ نے کہا کہ ’’عبوری اقدام کے طورپر یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ جموں و کشمیر پولیس کی طرف سے سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے ، متاثرہ خاندان ، اس کی وکیل دیپکا سنگھ رجاوت اور اس خاندان کے د وست طالب حسین کو سکیورٹی فراہم کی جائے‘‘۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے اس ضمن میں سماعت کے دوسرے دن 27 اپریل تک جواب بھی طلب کیا ہے کہ جموں کے ٹاؤن میں پیداشدہ فرقہ وارانہ صورتحال کے پیش نظر مقدمہ کی سماعت چندی گڑھ منتقل کی جائے ۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے اس مقدمہ پر فوری سماعت کے لئے ایک سینئر ایڈوکیٹ اندرا جئے سنگھ کی طرف سے دائرہ کردہ درخواست سے اتفاق کرلیا تھا ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیپکا سنگھ رجاوت نے جو متاثرہ خاندان کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کررہی ہیں جس کے نتیجہ میں انھیں لاحق خطرات کے پیش نظر سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے علحدہ درخواست دائر کی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT