Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / حکومت کو اقلیتی اداروں کے لیے موزوں عہدیداروں کی تلاش

حکومت کو اقلیتی اداروں کے لیے موزوں عہدیداروں کی تلاش

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے مشاورت کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم کا مخلوعہ جائیدادوں کا جائزہ

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے مشاورت کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم کا مخلوعہ جائیدادوں کا جائزہ
حیدرآباد۔/25نومبر، ( سیاست نیوز) حکومت نے اقلیتی اداروں میں عہدیداروں کی کمی کے مسئلہ کی یکسوئی کی جانب توجہ مرکوز کی ہے۔ سکریٹریٹ اور اقلیتی اداروں میں عہدیداروں کی کمی اور اہم عہدوں پر زائد ذمہ داری کے ساتھ عہدیداروں کی موجودگی کے باعث اقلیتی بہبود کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی کمی کو پورا کرنے اور زائد ذمہ داری نبھانے والے عہدیداروں کی جگہ نئے عہدیداروں کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کو اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے کیلئے موزوں عہدیداروں کی تلاش ہے لیکن حکومت کو اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب کئی عہدیداروں نے اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے سے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے عہدیداروں کی کمی کے مسئلہ پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مشاورت کی اور سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم سے مخلوعہ جائیدادوں کے بارے میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ سکریٹریٹ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو مستحکم کرنے پہلے قدم کے طور پر حکومت نے آج اقلیتی بہبود کیلئے ڈپٹی سکریٹری کا تقرر کیا ہے۔ یہ عہدہ گزشتہ چار ماہ سے مخلوعہ تھا۔ حکومت نے شریمتی کے راجیشوری ڈپٹی سکریٹری جی اے ڈی کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں ڈپٹی سکریٹری اقلیتی بہبود مقرر کرتے ہوئے آج احکامات جاری کئے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی قلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سکریٹری سے لے کر تمام اقلیتی اداروں کے اہم عہدوں پر موجود عہدیدار ایک سے زائد ذمہ داریاں نبھارہے ہیں جس کے باعث یقینی طور پر اداروں کی کارکردگی پر اثر پڑا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی نے چیف منسٹر سے خواہش کی کہ اقلیتی بہبود کے اہم عہدوں پر دیگر محکمہ جات سے متحرک و فعال عہدیداروں کو فائز کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ جیسے اہم عہدہ کیلئے جو گزشتہ دو ماہ سے مخلوعہ ہے حکومت نے محکمہ ریونیو کے ایک عہدیدار کا انتخاب کیا ہے۔ توقع ہے کہ بہت جلد تقرر کے سلسلہ میں احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ محکمہ ریونیو سے تعلق رکھنے والے عہدیدار کی وقف بورڈ میں تعیناتی سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ اوقافی جائیدادوں سے متعلق ریکارڈ اور ریونیو ریکارڈ میں یکسانیت کے سبب ریونیو ڈپارٹمنٹ سے متعلق عہدیدار بہتر طور پر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ فی الوقت اس عہدہ پر زائد ذمہ داری کے ساتھ لا آفیسر کو مقرر کیا گیا ہے جو اکاؤنٹس اور وقف بورڈ کی راست نگرانی میں لئے گئے بعض اوقافی اداروں کے نگرانکار ہیں۔ وقف بورڈ میں موجود عہدیداروں کی جگہ دیگر محکمہ جات سے عہدیداروں کی تعیناتی پر غور کیا جارہا ہے۔ خاص طور پر محکمہ پولیس سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کی خدمات حاصل کرنے حکومت سنجیدہ ہے تاکہ ادارہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ اکثر یہ شکایات سامنے آئی ہیں کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اہم رکاوٹ وقف بورڈ کے عہدیدار و ملازمین کی قبضہ داروں سے ملی بھگت ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے ڈپٹی چیف منسٹر کو ذمہ داری دی کہ وہ اقلیتی اداروں جیسے اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی اور وقف بورڈ کیلئے موزوں امیدواروں کا انتخاب کرتے ہوئے ان کی فہرست پیش کریں تاکہ تقرر کے احکامات جاری کئے جاسکیں۔ موجودہ سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم کے پاس اقلیتی بہبود کی ذمہ داری زائد ذمہ داری کے طور پر ہے جبکہ وہ محکمہ ایکسائیز کے کمشنر کی حیثیت سے فائز ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں موجودہ اسپیشل آفیسر کے اقدامات کی تائید کرتے ہوئے انہیں پولیس عہدیداروں پر مشتمل ٹیم فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے فوری کارروائی کی جاسکے۔ اقلیتی اداروں میں تقرر کے سلسلہ میں حکومت نے جب محکمہ مال اور دیگر محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں سے ربط قائم کیا تو انہوں نے معذرت کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض ایسے عہدیدار اقلیتی اداروں پر فائز ہونے کی کوشش کررہے ہیں جن کی کارکردگی کا ریکارڈ ٹھیک نہیں۔اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی نے بتایا کہ اقلیتی بہبود اور اقلیتی اداروں کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا عمل جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT