Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کو شریعت میں مداخلت کا ہرگز اختیار نہیں

حکومت کو شریعت میں مداخلت کا ہرگز اختیار نہیں

حج بیت اللہ خالص مذہبی معاملہ، مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔15اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت شریعت و عبادات کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں رکھتی اور حج بیت اللہ خالص مذہبی معاملہ ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مدون کردہ نئی ذیلی پالیسی کو مسلم علماء کی جانب سے سختی سے مسترد کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کو تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اس طرح کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ان معاملات میں مداخلت کو روکیں اور شریعت پر سختی سے گامزن رہیں۔مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ ‘ جامعہ نظامیہ نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے مخالف مسلم پالیسیوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے انہیں آزادی مذہب کے منافی قرار دیا اور کہا کہ حکومت بالواسطہ اور راست طریقہ سے مسلمانوں کے مذہبی امور میں مداخلت کرنے لگی ہے جس کے نتیجہ میں ہندستانی مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہونے لگی ہے۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ ملک میں گذشتہ چند ماہ کے دوران جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں طلاق ثلاثہ مسئلہ پر چند کوتاہیوں کی وجہ سے جو عدالتی فیصلہ آیا ہے وہ بھی شریعت میں مداخلت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر ہندستانی مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے اپنے اصول مرتب ہیں اور وہ اپنے ان اصولوں کے مطابق عائلی تنازعات کی یکسوئی کر رہے تھے لیکن کسی بھی مکتب فکر کی جانب سے کسی دوسرے مکتب فکر پر دباؤ ڈالنے یا انہیں اپنی بات ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے خواتین کے حقوق کے نام پر انہیں ہمنوا بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ شرعی قوانین میں ترمیم کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے اور کوئی بھی ان امور میں تبدیلی نہیں لا سکتا لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے جارہے ہیں وہ شریعت میں مداخلت اور مسلمانو ںکی دلآزاری کا موجب بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حج بیت اللہ کے لئے خواتین کے ساتھ محرم کا ہونا لازمی ہے اور محرم کے بغیر کوئی خاتون حج بیت اللہ ہی نہیں بلکہ 3یوم کی مسافت کا سفر طئے نہیں کرسکتی اسی لئے حج پر روانگی کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی جبکہ مرکزی حکومت کی مدون کردہ نئی پالیسی کے مطابق 45سال کی عمر سے زیادہ کی خواتین کو حج بیت اللہ کے لئے تنہاء سفر کی اہل قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو خواتین کو خود مکتفی بنانے اور انہیں بااختیار بنانے کی اتنی ہی دلچسپی ہے تو خواتین کی تعلیم اور ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے اقدامات کرتے ہوئے انہیں با اختیار بنایا جا سکتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے ان امور کو چھیڑتے ہوئے ملک میں بسنے والے مسلمانو ںکو مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ شرعی قوانین میں مداخلت کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں جو پالیسیاں تیار کی جا رہی ہیں وہ شرعی امور سے نابلد ارکان پارلیمان کی کمیٹیوں کے ذریعہ تیار کی جا رہی ہیں جبکہ شریعت کے معاملات میں ترمیم کا اختیار کسی رکن پارلیمنٹ یا ملک کے کسی بڑے سے بڑے عہدیدارکو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پالیسیوں کی مذمت اور انہیں مسترد کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ان پالیسیوں کو ناقابل عمل بنانے کے لئے مسلمان خود کو شریعت کے ڈھانچے میں ڈھالنے لگ جائیںاور شرعی قوانین کے مطابق اپنی زندگی گذارنا شروع کردیں۔

TOPPOPULARRECENT