Thursday , January 17 2019

حکومت کو وقف بورڈ معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں

بورڈ تحلیل کرنے عمر جلیل کے بیان پر چیرمین محمد سلیم کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 13۔ ستمبر (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کی جانب سے بورڈ کو تحلیل کرنے کے حکومت کو اختیارات سے متعلق بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ بورڈ مرکزی وقف قانون 1995 کے تحت قائم کیا گیا ہے اور یہ ایک خود مختار ادارہ ہے ۔ حکومت کو بورڈ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی معاملہ میں اگر چاہے تو بورڈ سے وضاحت طلب کرسکتی ہے لیکن اسے بورڈ کو تحلیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بورڈ کے صدرنشین اور ارکان بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں میں ملوث پائے گئے جس سے اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہنچے تو ایسی صورت میں حکومت بورڈ کو تحلیل کرسکتی ہے۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ان کی صدارت میں بورڈ میں ایک بھی ایسا معاملہ درپیش نہیں آیا جسے بے قاعدگی کہا جاسکے ، لہذا بورڈ کو تحلیل کرنے سے متعلق بیانات کا موجودہ صورتحال پر اطلاق نہیں ہوتا۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے جذبہ کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں وقف بورڈ کے امور پر گرما گرم مباحث اور تقررات میں بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد حکومت متحرک ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ ا قلیتی بہبود نے وقف بورڈ سے مختلف امور کے سلسلہ میں وضاحت طلب کی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ جو بھی بے قاعدگیاں تقررات میں کی گئیں، اس وقت منتخبہ بورڈ نہیں تھا۔

TOPPOPULARRECENT