Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے رشوت ستانی کو ختم کرنے کی ضرورت

حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے رشوت ستانی کو ختم کرنے کی ضرورت

عوام کیا چاہتے ہیں

ہر مرحلہ کے لیے ابتداء تا آخر رشوت کا عام چلن ، محکمہ عوامی تقسیم نظام بری طرح متاثر
حیدرآباد ۔ 10 ستمبر (سیاست نیوز) حکومت ریاست کے شہریوں کو سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کیلئے موجود اسکیمات پر مؤثرعمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے کرپشن سے پاک ماحول فراہم کرے تاکہ عوام بحیثیت شہری اپنے حقوق کے حصول کیلئے کرپشن کی حوصلہ افزائی کے مرتکب نہ ہونے پائیں۔ شہر میں موجود سرکاری دفاتر بالخصوص ایسے سرکاری دفاتر جہاں عوام کا آنا جانا زیادہ ہوتا ہو وہاں رشوت کا چلن عام ہوتا جارہا ہے اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ سرکاری دفاتر میں رشوت کے خاتمہ کیلئے خصوصی اقدامات کرے اور سرکاری دفاتر سے استفادہ کنندگان کے علاوہ دیگر محکمہ جات کی جانب سے انسداد رشوت ستانی کے سلسلہ میں خفیہ عہدیداروں کی خدمات حاصل کرے تاکہ رشوت کے خاتمہ کے ساتھ عوام کو راحت حاصل ہوسکے۔ دونوں شہروں میں موجود سرکاری دفاتر بالخصوص بلدیہ، راشننگ آفس، آر ٹی اے کے علاوہ دیگر دفاتر میں درمیانی افراد کا چلن شہریوں کو اپنے طور پر درکار دستاویزات کے حصول میں دشواریاں پیدا کررہا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے یہ ضروری ہیکہ حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے شہریوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں تاکہ سرکاری دفاتر سے رشوت کے خاتمہ کو یقینی بنایا جاسکے۔ ٹولی چوکی کے مکین جناب سید اصغر نے روانہ کردہ اپنی شکایت میں بتایا کہ اس علاقہ کے متعلقہ دفتر راشننگ میں درمیانی افراد کا چلن کافی حد تک فروغ حاصل کرچکا ہے جس کی وجہ سے عوام کو راست عہدیداروں سے کوئی ملاقات کا موقع میسر نہیں آتا اور اگر کوئی بھی عہدیدار سے راست طور پر ملاقات میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو اس کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں کیا جاتا جب تک درمیانی افراد جو اس کام کے لئے مامور ہیں، ان سے ملنے تک یہ کام تکمیل کو نہیں پہنچتے۔ اسی طرح پرانے شہر کے علاقہ فتح دروازہ سے موصولہ ایک مکتوب میں اس بات کی شکایت کی گئی کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا دفتر ساوتھ زون واقع سردار محل میں بھی اسی طرح کی پیروکار جمع ہیں جنہیں سرکاری عہدیداروں کی سرپرستی حاصل ہونے کے سبب وہ ڈھٹائی کے ساتھ رقومات کا مطالبہ کرتے ہیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں کاموں میں رکاوٹ پیدا کرنے کی باضابطہ دھمکی بھی دینے لگتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں رشوت کے چلن کے خاتمہ کیلئے عوامی تجاویز کچھ اس طرح موصول ہوئی ہیں کہ دہلی کے طرز پر اگر حکومت کی جانب سے رشوت لیتے ہوئے پکڑے جانے والے عہدیداروں کی بروقت برطرفی کے علاوہ ان پر نظر رکھنے کیلئے خصوصی ٹیموں کی تشکیل دیئے جانے کی صورت میں ان حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سرکاری سطح پر یہ کہا جاتا ہیکہ عوام عہدیداروں کو رشوت کا لالچ دیتے ہوئے بدعنوانیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہیکہ کئی دفاتر ایسے ہیں جہاں پر درخواست گذار یا مسائل کے حل کیلئے رجوع ہونے والے کی جانب سے کچھ لین دین کی بات نہیں کی جاتی، اس وقت تک مسئلہ سننے کیلئے بھی عہدیدار تیار نہیں ہوتے۔ اسی لئے یہ ضروری ہیکہ حکومت وقتاً فوقتاً سرکاری دفاتر میں موجود عہدیداروں کے طرزکارکردگی کا جائزہ لیں اور ان پر خصوصی نظر رکھے بالخصوص ایسے عہدیداروں پر نظر رکھی جائے جن کا راست عوام سے تعلق ہوتا ہے اور وہ عوامی تقسیم کے نظام سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں جیسے شہر کے ہر منڈل میں تحصیل دفاتر میں موجود عہدیدار جن کی ذمہ داری وظائف کی تقسیم ہوتی ہے ان پر بھی خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے چونکہ ان عہدیداروں کا شکار ہونے والے معصوم غریب عوام کسی سے شکایت کرنے کے موقف میں نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان عہدیداروں کے خلاف کس سے شکایت کی جائے۔ اسی لئے حکومت کو رشوت سے پاک ماحول کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اقدامات کرنے چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT