Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / حکومت کی بے حسی پر قانون بھی رو پڑا ‘ ججس کی کمی پر ردعمل

حکومت کی بے حسی پر قانون بھی رو پڑا ‘ ججس کی کمی پر ردعمل

NEW DELHI, APR 24 (UNI):- Chief Justice of India Justice T S Thakur addressing the Joint Conference of Chief Ministers and Chief Justices of High Courts at Vigyan Bhawan in New Delhi on Sunday. UNI PHOTO-53U

مقدمات کی یکسوئی میں تاخیرکا مسئلہ ختم کرنے 40,000 ججس کا تقرر ضروری ‘ چیف جسٹس آف انڈیا کا خطاب
نئی دہلی۔24اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر آج وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک جلسہ سے خطاب کے دوران رو پڑے اور حکومت پر تنقید کیکہ وہ ملک میں ججس کی کمی کی شکایت کو دور کرنے میں غیر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ اس وقت 21,000ججس کام کررہے ہیں جبکہ 40,000 ججس کی ضرورت ہے ‘ کئی مقدمات کی یکسوئی تاخیر کی وجہ ججس کی کمی ہے ۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرکے آپ سارا بوجھ عدلیہ پر نہیں ڈال سکتے ۔ غیر معمولی طور پر جذباتی موقف اختیار کرتے ہوئے جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ 1987ء سے ججس کی تعداد میں اضافہ کا مسئلہ زیرالتواء ‘ لاکمیشن نے سفارش پیش کی تھی کہ ہر 10لاکھ کی آبادی کیلئے کم از کم 50 ججس کا تقرر عمل میں لایا جائے جبکہ اس وقت صرف 10ججس کام کررہے ہیں ۔ جب کہ ججس کی تعداد بڑھانے کے معاملہ میںحکومت لاپرواہ ہوتی ہے تو مقدمات کی یکسوئی نہیں ہوسکے گی  ۔ انہوں نے چیف منسٹرس اور چیفجسٹس آف ہائیکورٹس کی مشترکہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے گلوگیر آواز میں کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ججس کی موجودہ کمی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو ضرور پورا کرے ورنہ اس سے نہ صرف ایک خراب نظیر قائم ہوگی بلکہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھتی جائے گی ۔ ملک کی ترقی کے نام پر حکومت کو سب سے پہلے قانون کے شعبوں کی ضروریات کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے وزیراعظم سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کئی موقع پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ملک میں انصاف رسانی میں تاخیر ہورہی ہے ‘ یہ محسوس ہونا چاہیئے کہ صرف تنقید کرنا ہی کافی نہیںہوتا آپ سارا بوجھ عدلیہ پر ہی نہیں ڈال سکتے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے اپنی آنکھوں سے ٹپکتے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی ان کی تقریرکو نہایت انہماک سے سماعت کررہے تھے ۔ وزارت قانون کی جانب سے جاری کردہ ترتیب  اور اس پروگرام کے شیڈول کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کو تقریر کرنا نہیں تھا لیکن انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کی آنسو بھری تقریر کی سماعت کے بعد کہا کہ میں ان کے ( چیف جسٹس آف انڈیا)  کے درد کو سمجھ سکتا ہو کیونکہ 1987 سے کافی وقت ضائع ہوچکا ہے ۔ اب ہم مستقبل میںاچھے کام انجام دیں گے ۔ آپ دیکھیں گے کہ ہم نے ماضی کے بوجھ کو کسطرح کم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دستوری رکاوٹیں کوئی مسائل پیدا نہ کریں تو اعلیٰ وزراء اور سپریم کورٹ کے سینئر ججس مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل تلاش کریں گے ۔ یہ تمام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عام آدمی کو عدلیہ پر بھروسہ رہے اور ان کی حکومت یہ کام سرانجام دے گی ۔ ایک عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے میں ان کی حکومت ہر ممکنہ مدد کرے گی ۔ وزیراعظم  مودی نے یہاں چیف جسٹس آف انڈیا کی تقریر اور ان کے اٹھائے گئے مسائل کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ جب جاگو سویرا‘‘  ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاکمیشن کی سفارشات کے باعث سپریم کورٹ نے 2002 میں عدلیہ کی قوت میں اضافہ کی حمایت کی تھی ۔ پارلیمانی ڈپارٹمنٹ برائے اسٹانڈنگ کمیٹی قانون نے اس کے تحت پرنب مکرجی کی قیادت میںسفارتشات پیش کی تھی ۔ ججس کا تقرر عوام کی آبادی کے تناسب سے 10کے بجائے 50کی بنیاد پر ہونا چاہیئے ۔ فی الوقت 10لاکھ آبادی کیلئے صرف 15ججس کام کررہے ہیں جو امریکہ ‘ آسٹریلیا ‘ برطانیہ اور کینیڈا کے مقابلہ میں بہت کم ہے ۔

TOPPOPULARRECENT