Thursday , December 13 2018

حکومت کی تمام محاذوں پر ناکامی پر اپوزیشن کی تنقید

NEW DELHI, FEB 6 (UNI):- Parliamentary Delegation from the Republic of Chile led by Fidel Espinoza, President of the Chamber of Deputies of Chile (Lower House) called on the President Ram Nath Kovind at Rashtrapati Bhavan,in New Delhi on Tuesday.UNI PHOTO-17U

رافیل سودے میں اسکام کا راہول گاندھی کا الزام، صدرجمہوریہ کے خطاب پر مباحث
نئی دہلی ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے آج لوک سبھا میں بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت کی ہر محاذ پر ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنا ایک بھی انتخابی وعدہ مکمل نہیں کرسکی۔ کانگریس کے سینئر قائد ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ عوام کیلئے مصائب کھڑا کرنے کی پالیسیاں تیار کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کی پارٹی کے گذشتہ 70 سال کے دوران کئے ہوئے اچھے کاموں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے کاموں کی تشہیر کررہی ہے۔ صدرجمہوریہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر تحریک تشکر کے سلسلہ میں مباحث میں حصہ لیتے ہوئے لوک سبھا میں کانگریس کے قائد نے کہا کہ ملازمتیں دستیاب نہیں ہیں۔ جی ایس ٹی کی شرحیں بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے عوام کو مصائب کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کا نفاذ ایک غلطی ہے۔ کسی نے بھی اسے قبول نہیں کیا ہے۔ گجرات انتخابات سے پہلے جی ایس ٹی کی شرح میں 200 مرتبہ کمی کی گئی۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی اور رافیل لڑاکا طیاروں کے سودے کو ’’اعلیٰ سطحی راز‘‘ قرار دینے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے رافیل سودے کے سلسلہ میں قومی مفادات اور سلامتی کی قیمت پر سمجھوتہ کیا ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ اس سودے کے سلسلہ میں ایک بڑا اسکام ہوا ہے۔ راہول گاندھی نے رافیل سودے میں اسکام کا الزام عائد کرنے میں اپوزیشن کی قیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی ایک ’’قابل اعتماد دوست‘‘ ہیں اور شخصی طور پر پیرس گئے تھے۔ انہوں نے شخصی طور پر اس سودے کی شرائط میں تبدیلی کی تھی۔ پورا ہندوستان اس بات کو جانتا ہے وزیردفاع کا کہنا ہیکہ وہ ہندوستان کو اس کی تفصیلات سے واقف نہیں کروائیں گی۔ ہندوستان کے شہید اور ان کے رشتہ دار جاننا چاہتے ہیں کہ ان طیاروںکی خریداری پر کتنی رقم صرف کی جارہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ کچھ نہ کچھ اسکام ہوا ہے۔ صدر کانگریس راہول گاندھی پارلیمنٹ کے باہر بیان دے رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پہلی بار ہے جبکہ حکومت کی وزیردفاع نرملا سیتارامن کسی طیارہ کی قیمت خرید سے ذرائع ابلاغ کو واقف نہیں کروانا چاہتی اور ذرائع ابلاغ سے دریافت کرتی ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں سوال کیوں کررہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’’عظیم رافیل تاز‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیردفاع کا کہنا ہیکہ ہر رافیل طیارہ کی جو قیمت طئے کی گئی ہے اس کا تعین وزیراعظم نے خود کیا ہے اور وہ ایک بااعتماد دوست ہیں۔ طیارہ کی قیمت ایک سرکاری راز ہے جس کا افشاء نہیں کیا جاسکتا۔ راہول گاندھی نے اپنے ٹوئیٹر پر قابل اعتماد دوست کا نام ظاہر کئے بغیر دعویٰ کیا کہ حکومت نے دو نکاتی کارروائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ پارلیمنٹ کو واقف کروانا چاہئے کہ قومی سلامتی کے لئے کونسا خطرہ لاحق ہوجائے گا اگر وہ طیارہ کی قیمت سے پارلیمنٹ کو واقف کروادیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کونسے برانڈ کے طیارے خریدے جارہے ہیں انہیں قوم دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ ایک دن قبل وزیردفاع نرملا سیتارامن نے سودے کی تفصیلات اس بنیاد پر ظاہر کرنے سے انکار کردیا تھا کہ یہ ایک صیانتی معاہدہ ہے جو 2008ء میں ہندوستان اور فرانس کے درمیان طئے پایا تھا۔ قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد نے کہا کہ حکومت رافیل طیارہ کی قیمت پارلیمنٹ میں بھی ظاہر کرنے سے گریز کررہی ہے جس سے حکومت کے عزائم مشکوک ہوجاتے ہیں۔ مودی حکومت ایک ناقابل معافی کھیل کھیل رہی ہے۔ قومی مفادات اور قومی سلامتی کی قیمت پر سمجھوتے کررہی ہے۔ کانگریس نے آٹھ سوالات وزیراعظم سے دفاعی سودے اور 36 رافیل جنگجو طیاروں کی خریداری کے بارے میں کئے تھے لیکن انہوں نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔

TOPPOPULARRECENT