Sunday , April 22 2018
Home / Top Stories / حکومت کی رافیل سودے اور دیگر مسائل پر مذمت

حکومت کی رافیل سودے اور دیگر مسائل پر مذمت

’’سودا بڑا اسکام ‘‘ : کانگریس، تمام سیاسی پارٹیوں نے متفقہ طور پر مختلف مسائل اٹھائے
نئی دہلی ۔ 7 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں نریندر مودی حکومت پر تنقید میں شدت پیدا کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ جمہوریت کی اہمیت کم کرتے ہوئے حقائق کے برعکس مستقبل کی ایک خوش رنگ تصویر عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں بشمول اہم اپوزیشن کانگریس نے الزام عائد کیا کہ رافیل لڑاکا طیاروں کا سودہ کسی اسکام سے کم نہیں۔ صدرجمہوریہ ہند کے خطاب پر تحریک تشکر پر مباحث میں شرکت کرتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی اور ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے الزام عائد کیا کہ رافیل لڑاکا طیاروں کی قیمت کے تعین کیلئے جو سودے بازی ہوئی اس کے بعد اس کی قیمت خانگی کمپنیوں کے طیاروں سے چار گنا زیادہ مقرر کی گئی۔ وزیردفاع اور کابینی کمیٹی برائے صیانت کو اعتماد میں لئے بغیر وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے 2015ء کے دورہ فرانس کے دوران اس سودے کو قطعیت دی۔ یہاں تک کہ اس سلسلہ میں سرکاری زیرانتظام ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ سے بھی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔ آنند شرما نے کہا کہ مودی حکومت نے 2005ء کے معاہدہ کو منسوخ کردیا جو یو پی اے دورحکومت میں 126 جیٹ لڑاکا طیاروں کی 526 کروڑ روپئے کی شرح سے طئے پایا تھا، منسوخ کردیا اور 2015ء میں 36 جیٹ طیاروں کی 15070 کروڑ روپئے کی شرح سے طئے کیا گیا۔ یہ قیمت سابقہ قیمت کی چار گنا ہے جبکہ قطر نے 12 جیٹ طیارے 694 کروڑ روپئے فی طیارہ کی شرح سے خریدے ہیں۔

اپوزیشن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اس سودے کے سلسلہ میں شفافیت نہیں برت رہی ہے اور قومی سلامتی کی قیمت پر اس ’’بڑے اسکام‘‘ کے ذریعہ سمجھوتہ کیا جارہا ہے۔ کانگریس میں خاندانی اقتدار کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ اس خاندان کی چار پیڑیوں نے ملک کیلئے جدوجہد کی ہے اور اپنی زندگیوں کی قربانی تک دی ہے جن پورے ملک کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسراقتدار پارٹی کو جمہوریت کی پابند ہونا چاہئے۔ یہ بیمار ذہنیت ہے کہ کانگریس دوراقتدار سے ملک کو پاک کرنے کی باتیں کی جائیں۔ یہ پارٹی 133 سال قدیم ہے۔ ہم کہیں نہیں جائیں گے۔ ہم بی جے پی سے کوئی صداقت نامہ نہیں چاہتے۔ وزیراعظم کبھی نہیں کہتے کہ بی جے پی کے بغیر ہندوستان ہوگا۔ ہمارے پاس تہذیب اور اقدار ہیں اور یہ ہندوستان کا ایک حصہ ہیں۔ قبل ازیں احمدپٹیل نے 2004ء میں کہا تھا کہ واجپائی حکومت نے عہدہ سے سبکدوشی کے وقت فی کس آمدنی 24000 روپئے تھی۔ 2004ء میں منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران یہ 70,000 روپئے ہوگئی۔ اس کے برعکس این ڈی اے دوراقتدار میں قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوگیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ گڈھے کس نے کھودے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حلیف پارٹیاں جیسے شیوسینا، تلگودیشم یا شرومنی اکالی دل ایسا معلوم ہوتا ہیکہ اس سنہری مستقبل کی تصویر سے اتفاق نہیں کرتے جو بی جے پی عوام کے سامنے پیش کررہی ہے۔ احمدپٹیل نے کہا کہ حقائق بی جے پی کے دعویٰ کے برعکس ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں جمہوری طور پر منتخبہ عام آدمی پارٹی حکومت کو بی جے پی نے ہراساں کیا ہے۔ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی جانب سے پیس عاپ ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیا گیا۔ بڑی کمپنیو ںکو 8.55 لاکھ کروڑ روپئے بطور قرض دیئے گئے ۔ سی پی آئی قائد وی راجہ نے کہا کہ حکومت سیاسی جمہوریت کے خلاف کام کررہی ہے اور سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تقسیم کرو اور ناقص حکمرانی کرو۔ بی جے پی کا نصب العین معلوم ہوتا ہے۔ مسلم لیگ کے عبدالوہاب حکومت پر طلاق ثلاثہ، حج کے سفر کی سبسیڈی میں تخفیف اور اقلیتوں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ یہ حکومت مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کام کررہی ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سنجیو کمار نے کہاکہ اپوزیشن قائدین کو جھارکھنڈ میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کانگریس کے بی کے ہری پرساد نے کہا کہ صدرجمہوریہ کے خطاب میں دین دیال اپادھیائے کا نام کئی بار لیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ قوم کیلئے ان کی دین کیا ہے۔ نامزد رکن کے ٹی ایس تلسی نے بیک وقت لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے انعقاد کی مخالفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ جمہوریت کیلئے خطرہ ثابت ہوں گے اور چنانچہ بے معنی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT