Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے لیے میناریٹی آفیسرس کو ہدایت

حکومت کی فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے لیے میناریٹی آفیسرس کو ہدایت

ضلعی اقلیتی بہبود عہدیداروں کا اجلاس ، اے کے خاں ، سید عمر جلیل ، ایس اے شکور و دیگر کی شرکت
حیدرآباد۔8 ستمبر (سیاست نیوز) حکومت کی فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لیے تمام اضلاع کے میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی بہبود عہدیداروں کا اجلاس آج حیدرآباد میں منعقد ہوا جس میں حکومت کے مشیر اقلیتی امور اے کے خان، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ، منیجنگ ڈائرکٹر کرسچن فینانس کارپوریشن وکٹر اور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے شرکت کی۔ دن بھر جاری رہے اس اجلاس میں اقلیتی بہبود کی تمام اسکیمات بشمول اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اور حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور نے ہر ضلع میں اسکیمات پر عمل آوری کے تعلق سے استفسارات کیے۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ اسکیمات کے سلسلہ میں جو بجٹ جاری کیا جارہا ہے، اس کے خرچ پر نظر رکھیں اور محکمہ کو اندرون 10 یوم رپورٹ پیش کی جائے۔ عہدیداروں سے کہا گیا کہ شادی خانوں کی تعمیر، قبرستانوں اور مساجد کے لیے گرانٹ ان ایڈ کی رقم ضلع کلکٹرس کو جاری کی گئی لیکن ان رقومات کے خرچ کے بارے میں متعلقہ اداروں کو کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ ان اسکیمات کی رقم کے خرچ کے بارے میں کلکٹریٹ سے تفصیلات حاصل کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں اسٹاف کی کمی کی شکایت کی۔ کئی اضلاع میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کی ذمہ داری اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹرس انجام دے رہے ہیں۔ بعض عہدیداروں کو ایک سے زائد ضلع کی ذمہ داری دی گئی۔ عہدیداروں نے تیقن دیا کہ اندرون ایک ہفتہ درکار اسٹاف الاٹ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں مجموعی طور پر اسٹاف کی کمی ہے۔ حیدرآباد کے دفاتر میں اسٹاف کی کمی کے سبب کام کاج بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ حکومت نے محکمہ کے لیے زائد اسٹاف کے تقرر کی اجازت دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ ضلعی اقلیتی بہبود عہدیداروں کے مسائل کی سماعت کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود نے کہا کہ حکومت فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے سلسلہ میں اسکیمات پر موثر عمل آوری چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک، بینکوں سے مربوط قرضہ جات پر سبسیڈی کی اجرائی، اسکالرشپ، فیس بازادائیگی اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ جیسی اسکیمات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے اور بجٹ کا موثر انداز میں خرچ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے۔ اگر اضلاع میں عہدیدار اسکیمات پر توجہ دیں تو زیادہ سے زیادہ بجٹ خرچ کیا جاسکتا ہے۔ عمر جلیل نے کہا کہ فلاحی اسکیمات کے ذریعہ اقلیتوں کی معاشی صورتحال بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے قائم کردہ 204 اقامتی اسکولوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیتوں میں تعلیمی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے یہ منفرد اسکیم شروع کی ہے جس کے تحت طلبہ کو مفت تعلیم کا انتظام کیا جارہا ہے۔ اقامتی اسکولس میں بنیادی سہولتیں مفت فراہم کی جارہی ہیں۔ حکومت نے معیاری سہولتوں کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ اقامتی اسکولس کی کارکردگی پر بھی نظر رکھیں۔ اسکے علاوہ مختلف پیشہ ورانہ کورسس اور سیول سرویس امتحانات کی کوچنگ کے اضلاع میں انعقاد کے لیے دلچسپی لیں۔ ضلعی عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر ماہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ محکمہ کو روانہ کریں اور ہر ماہ تمام اضلاع کا جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT